اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

نمونیا سے 2030 تک ایک کروڑ سے زائد بچوں کی اموات کا خطرہ ہے : نئی تحقیق

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی)نمونیا 2030 تک ایک کروڑ 10 لاکھ بچوں کی اموات کا باعث بن سکتا ہے خصوصاً غربت کے شکار طبقے سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہوں گے۔یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سیو دی چلڈرن اور جان ہوپکنز یونیورسٹی کی جاری کردہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگلے 12 برسوں میں نمونیا ایک کروڑ 8 لاکھ کے قریب

بچوں کی اموات کا باعث بن سکتا ہے۔تاہم کم از کم ایک تہائی یا 40 لاکھ کے قریب اموات کی روک تھام ممکن ہے، اگر ویکسینیشن، علاج اور بچوں کی غذا کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔محققین کے مطابق یہ ایسا مرض ہے جو غریب بچوں کو زیادہ نشانہ بناتا ہے، ایسے بچے جو غذائیت کی کمی یا کچی بستیوں میں رہتے ہیں، ان میں نمونیا کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ بچوں کی اموات کی نمبرون وجہ کے بارے میں حقائق پر بات نہیں کی جاتی جبکہ یہ حکومتوں، ڈونرز اور عوام کی ترجیحات میں بھی شامل نہیں۔اس وقت نمونیا کسی بھی دیگر مرض بشمول خسرہ، ملیریا اور ہیضہ کے مقابلے میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے اور اس کے نتیجے میں ہر سال لگ بھگ 10 لاکھ بچوں کا انتقال ہوجاتا ہے۔یہ مرض پھیپھڑوں کو نشانہ بناتا ہے جو کہ ورم اور سیال سے بھرجاتے ہیں، یہ عام طور پر بیکٹریا، وائرس یا پیراسائٹ کے باعث لوگوں کو ہدف بناتا ہے۔تحقیق کے مطابق غریب بچوں کو طبی سہولیات تک رسائی نہ ہونا یا اس کی علامات سے عدم واقفیت اموات کی وجہ بنتی ہے۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 2030 تک اس مرض سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان تیسرا بڑا ملک ہوگا اور نمونیا سے 7 لاکھ 6 ہزار اموات کا امکان ہے۔اس حوالے سے نائیجریا پہلے اور بھارت دوسرے نمبر پر ہوگا، ان دونوں میں یہ مرض سترہ لاکھ سے زائد اموات کا باعث بن سکتا ہے۔محققین نے دریافت کیا کہ 5 سال سے کم عمر بچوں میں ویکسینیشن کوریج کو بہتر بناکر 2030 تک 6 لاکھ 10 ہزار زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے جبکہ بچوں کو بہتر غذا فراہم کرکے 25 لاکھ زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔تحقیق کے مطابق سستی اینٹی بائیوٹکس ادویات کی فراہمی سے بھی 19 لاکھ بچوں کی زندگیاں بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔محققین نے دنیا بھر کی حکومتوں کو بنیادی طبی سہولیات، بہتر تشخیص اور علاج پر سرمایہ کاری کا مشورہ دیا ہے، جو کہ نمونیا کی وبا پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…