پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

آصف زرداری کی ممکنہ گرفتاری ،پیپلزپارٹی نے تین نکاتی حکمت عملی مرتب کرلی ،گرفتاری کی صورت میں کیا، کیاجائے گا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 25  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی نے منی لانڈرنگ کیس میں شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں حکمت عملی مرتب کرنا شروع کر دی ہے ۔ تین نکاتی حکمت عملی کے تحت پیپلزپارٹی پارلیمنٹ ،انفرادی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک گیر سطح پر احتجاج کریگی ۔ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرنا شروع کردی ہے ۔

اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کیا جارہا ہے ۔اگر منی لانڈرنگ کیس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے آصف زرداری کو گرفتار کرتے ہیں تو پارٹی کی جانب سے پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی ، سینیٹ اور سندھ اسمبلی میں بھرپور انداز میں احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا ۔ دوسرے آپشن میں پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں احتجاج ریلیوں اور دھرنوں کا سلسلہ شرو ع کر سکتی ہے ۔ اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام صوبائی اور ضلعی تنظیمی عہدیداران کو تیار رہنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری پر پیپلز پارٹی احتجاجی مظاہروں کو ملک بھر میں وسیع کرنے کے لیے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے رابطے کرے گی ۔ اس ضمن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے ۔ یہ رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن) ، جمعیت علمائے (ف) ، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتوں سے رابطہ کرکے انہیں اس بات پر قائل کریں گے کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری ملک میں جمہوری قوتوں کو کمزور کرنے کی سازش ہے اور ان کی گرفتاری کا کرپشن سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس حوالے 31 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں بھی بات چیت کی جائے گی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد تیسرے مرحلے میں پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے کرے گی

اور اسلام آباد میں دھرنے کے آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ انتہائی معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کچھ اہم رہنما پارٹی قیادت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو دانستہ دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پارٹی کی قیادت کو سوچی سمجھی سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اس صورت حال میں اسمبلیوں میں احتجاج ریکارڈ کرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔ اس لیے احتجاجا قومی اسمبلی سے استعفوں کا آپشن بھی سامنے رکھا جائے گا ۔ تاہم پارٹی کے اکثریتی رہنما اس تجویز کے مخالف ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…