ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

یمن اور دوسرے ملکوں میں مداخلت پر ایران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی،امریکہ

datetime 29  اگست‬‮  2018 |

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ یمن اور دوسرے ملکوں میں مداخلت پر ایران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یمن میں عرب اتحاد کی حمایت کا جائزہ لیا ہے اور اس کے نزدیک یہ حمایت ایک درست اقدام ہے۔میڈیارپورٹس کے مطاق وہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان میں منگل کے روز ایک بریفنگ کے دوران میں گفتگو کررہے تھے۔

انھوں نے کہاکہ ہم نے اقتدار سنبھالنے کے بعد عرب اتحاد کی حمایت کا جائزہ لیا تھا اور اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ان ممالک کے دفاع کے علاوہ یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے بھی یہ حمایت ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا یمن میں انسانی جانوں کے ضیاع کو کم کرنا چاہتا ہے اور اس کا تعلق اس علاقے سے ہے جہاں وہ عرب اتحاد کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ جیمز میٹس نے کہاکہ یمن میں اگرعمومی بات کی جائے تو ہم نے جنگ سے خود کو دور رکھا ہے۔ ہم نے جزیرہ نما عرب میں داعش اور القاعدہ کو شکست دینے پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے اور ہم نے وہاں کارروائیاں کی ہیں۔امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ امریکا، یمن میں شہری نقصانات کو کم سے کم کرنا چاہتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ یمن میں جاری بحران جلد از جلد اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہو جائے۔شام کے حوالے سے جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق روس سے انتہائی عملی نوعیت کے رابطے استوار کئے ہیں۔ میٹس کے بقول امریکا چاہتا ہے شامی عوام کو ایسی حکومت چننے کا اختیار ملے، جس کے قیادت بشار الاسد نے ہاتھ میں نہ ہو۔انھوں نے کہا کہ ترکی کی جانب سے روس سے طیارہ اور میزائل شکن دفاع سسٹم کا حصول امریکا کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ واشنگٹن پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر انقرہ نے ’’لاک ہیڈ مارٹن‘‘ کمپنی کے تیارکردہ لڑاکا جہاز خریدے تو اسے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ترکی، روس سے متذکرہ دفاعی سسٹم خریدنے سے باز رہے۔صحافیوں سے گفتگو میں امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ نیٹو کا رکن ملک ہوتے ہوئے ترکی میزائل اور طیارہ شکن سسٹم روس سے خریدنے جا رہا ہے ۔ ایسے ہم نیٹو کے رکن ملک کے دفاع سسٹم کا حصہ بنتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ جی ہاں، اس بات پر ہمیں پریشانی ہے اور امریکا، اس سسٹم کے حصول کی تجویز کی کبھی حمایت نہیں کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…