بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

کئی سو اہلکاروں کے جھرمٹ میں پروٹوکول کیساتھ سڑکوں پر نکلنے والے نواز شریف آج کس حال میں ہیں؟پمز ہسپتال میں سابق وزیراعظم کو کتنی سکیورٹی دی گئی ہے؟ جان کر آپ بھی بدلتے وقت اور حالات پر حیران رہ جائینگے

datetime 30  جولائی  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)سابق وزیراعظم نواز شریف کو طبیعت کی خرابی کے باعث ڈاکٹروں کی ہدایت پر اڈیالہ جیل سے پمز ہسپتال منتقل کرکے کارڈیک سینٹر کے پرائیویٹ وارڈ کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔ذرائع کے مطابق میاں نوازشریف کے گزشتہ روز مختلف ٹیسٹ کیے گئے تھے جس کے مطابق ادویات دی گئیں ۔ذرائع کے مطابق پمز کا پانچ رکنی بورڈ نوازشریف کی صحت کا جائزہ لے رہا ہے

ٗ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی میڈکل بورڈ سے رابطے میں ہیں اور ہسپتال انتظامیہ کو ان کی پرانی دواؤں کے بارے میں آگاہ کیا ۔ذرائع کے مطابق ہسپتال میں جیل خانہ جات پولیس کے ایس پی کی سربراہی میں 10 اہلکار بھی نواز شریف کے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نے پہلے پمز اسپتال منتقل ہونے سے انکار کر دیا تھا تاہم بعد ازاں انہوں نے اسپتال منتقل ہونے پر آمادگی ظاہر کی۔نواز شریف کی درخواست پر جیل انتظامیہ نے سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو جیل بلایا۔ڈاکٹر عدنان اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم کا مکمل طبی معائنہ کیا اور پھر ان کی تجویز کی روشنی میں نواز شریف کو ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا۔سابق وزیراعظم نواز شریف کو اتوار کی رات 8 بجے کے قریب سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز پہنچایا گیاتھا ۔پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے سابق وزیراعظم کو ہسپتال میں ریسیو کیا اور نواز شریف کے داخلے کے بعد کارڈیک سینٹر میں عام مریضوں کا داخلہ بند کر دیا گیا۔ہسپتال میں شعبہ امراضِ قلب کے سربراہ ڈاکٹر نعیم ملک نے نواز شریف کا طبی معائنہ کیا اور بلڈ ٹیسٹ، شوگر لیول اور معمول کے ٹیسٹ کیے گئے۔میڈیکل رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم کے خون کی ٹیسٹ رپورٹ میں ٹروپونن کی زیادتی تھی اور ٹروپونن ہائی ہونے پر انہیں اکیوٹ

کورنری سینڈروم ہونے کا خدشہ بڑھ گیا تھا۔نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم کی کہنیوں اور پاؤں میں درد تھا اور سوجن بھی تھی، رپورٹ میں نواز شریف کے دل کا عارضہ بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔نواز شریف کی جیل سے منتقلی پر پمز اسپتال میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور وی آئی پی وارڈ کے باہر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔

ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے متعلقہ ایس پی اور ڈی ایس پی کو موقع پر پہنچنے اور غیر متعلقہ افراد کو وی آئی پی وارڈ کے اردگرد سے ہٹانے کی ہدایت کی جبکہ سادہ کپڑوں میں پولیس کے جوان بھی ہسپتال کے مختلف حصوں میں تعینات تھے۔یاد رہے کہ نواز شریف کی طبیعت بگڑنے پر آئی جی جیل خانہ جات نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ سے رابطہ کر کے صورتحال سے آگاہ کیا تھاجس کے بعد نگران حکومت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ کے بعد سابق وزیراعظم کو پمز منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…