منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹریلیا کا امیر ترین مسلمان نوجوان جس کی دن اور شامیں ایسے گزرتی تھیں کہ ہر کوئی رشک کرتا تھا ، کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد اور مرنے سے پہلے اس نے ایسا مثالی کام کر دیا کہ ہر کوئی حیران رہ گیا،اپنی ساری جائیداد کس کے نام کر گیا؟

datetime 31  مئی‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)کینسر کے مرض نے دنیا پرست شخص کی کایا پلٹ دی، مہنگی گاڑیوں، قیمتی ملبوسات اور شاہانہ گھر کا باسی دنیا سے جاتے جاتے دکھی انسانیت کیلئے ایسا کام کر گیا کہ رہتی دنیا تک مثال قائم کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی کروڑ پتی مسلمان علی بنات نےکینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد اپنی ساری دولت دکھی انسانیت کیلئے وقف کرتے ہوئے عظیم مثال قائم کر دی ہے۔

تین سال قبل علی بنات کو کینسر کا مرض لاحق ہوا جس کے بعد علی بنات کی زندگی بالکل بدل گئی اور انہوں نے اپنی ساری دولت کو غریبوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔علی بنات گزشتہ روز دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ اپنی ایک ویڈیو میں علی بنات کا کہنا تھا کہ وہ کینسر کی اس بیماری کو اپنے لئے قدرت کی جانب سے ایک تحفہ سمجھتے ہیں جس نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی ۔ علی بنات آسٹریلیا میں سڈنی میں رہتے تھے،اور ایک کامیاب کاروبار چلا رہے تھے۔علی بنا کاشاہانہ طرز زندگی دیکھ کر ہر کسی کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ بھی علی بنات جیسی زندگی جئےلیکن کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد علی بنات کو اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ زندگی میں ان تمام چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں ۔ڈاکٹروں نے علی بنات کو 7 ماہ کا وقت دیا تھا لیکن اللہ نے علی بنات کو ماہ رمضان میں اپنے پاس بلا لیا۔علی بنات کی بنائی ہوئی تنظیم MATW کئی ممالک میں ہزاروں مسلمانوں کی زندگیاں بدل چکی ہے اور اس تنظیم نے ہزاروں مسلمانوں کی مالی مدد بھی کی ہے۔علی بنات نے خود بھی اپنی تنظیم کے لیے چندہ جمع کرنے کے لیےافریقہ کے کئی ممالک کا دورہ کیا،اور اس تمام رقم کے ساتھ دو بیواؤں کے لیے گھر تعمیر کرنے،600بچوں کے لیے سکول تعمیر کرنے اور ایک چھوٹا سا اسپتال بنانا چاہتے تھے۔علی بنات کی وفات کی خبر سن کر لوگ افسردہ ہو گئے ہیں اور انہوں نے علی بنات کے مشن کی تکمیل کا ارادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ علی بنات کے شروع کئے گئے اس نیک کام کو جاری رکھتے ہوئے دکھی انسانیت کی خدمت جاری رکھیں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…