جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

32ہزارسرکاری افسران کا ذاتی معلومات چھپانے کا انکشاف ،جانتے ہیں کتنے افسران اور انکی بیگمات دہری شہریت رکھتی ہیں؟

datetime 26  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) سپریم کورٹ میں دوران سماعت انکشاف ہوا ہے کہ ملک بھرمیں ایک لاکھ 72 ہزار سرکاری افسران میں سے 32 ہزار نے حکومتی ریکارڈ میں اپنی ذاتی معلومات کا درست اندراج نہیں کرایا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ججز اور سرکاری افسران کی دہری شہریت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ڈی جی ایف آئی نے عدالت کو بتایا کہ ملک بھرمیں

ایک لاکھ 72 ہزارسے زائد سرکاری افسر ہیں، ایک لاکھ 40 ہزارملازمین کی معلومات درست تھیں، 616 افسروں نے رضا کارانہ طورپردہری شہریت تسلیم کی، 147 افسروں نے اپنی دہری شہریت چھپائی، 691 افسروں کی بیگمات دہری شہریت کی حامل ہیں جب میں سے 291 افسروں نے بیگمات کی دہری شہریت چھپائی، 7 ایسے افسر بھی ہیں جن کی شہریت غیر ملکی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سرکاری افسروں کی بیگمات پر دوہری شہریت کی قدغن ہے، کیا غیر ملکی سرکاری ملازمت اختیار کرسکتا ہے، دہری شہریت سے متعلق کافی معلومات آ چکی ہے، کیا مزید معلومات آنے کا امکان ہے۔عدالتی استفسار پر ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ صوبوں کی جانب سے دہری شہریت سے متعلق معلومات آنا باقی ہے، غیرملکی سرکاری ملازمت نہیں کرسکتا۔ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نے بتایا کہ افسروں کو اپنی اوربیگمات کی دوہری شہریت ظاہر کرنا پڑتی ہے، حکومت کی اجازت سے غیر ملکی شہری مخصوص منصوبوں پر تعینات ہو سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے دہری شہریت چھپانے والے 147 افسروں، بیویوں کی شہریت چھپانے والے 291 افسروں اور 7 غیر ملکی افسروں کونوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…