ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پاکستان نے افغانستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر افغان حکومت کے ردعمل کو ’’بیرونی عناصر ‘‘کی پیدا کردہ غلط فہمیوں کا نتیجہ قرار دیدیا ،اہم ترین اعلان

datetime 2  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے افغانستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر افغان حکومت کے ردعمل کو بیرونی عناصر کی پیدا کردہ غلط فہمیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اس لیے افغان حکومت کو بھی سرحد پر باڑ لگانے کی حمایت کرنی چاہیے ٗپاکستان مشکلات کے باوجود افغانستان کیساتھ تعلقات کو مثبت انداز سے آگے بڑھاتا رہے گا ٗ

پاکستانی وفد 3 فروری کو شیڈول کے مطابق کابل کا دورہ کرے گا ٗوفد دونوں ممالک کی مشترکہ حکمت عملی سے متعلق پاکستان کی تجاویز پر بات کریگا۔جمعہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کا 18 واں اجلاس منعقد ہواجس میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف، وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ، اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے خطہ میں سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا اور کابل میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملہ کی مذمت کی۔ کمیٹی نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام افغان بھائیوں کے دکھ اور غم میں برابر کی شریک ہیں اور ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ پاکستانی عوام افغانستان کے عوام کے غم و غصہ کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کیونکہ وہ خود دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ افغان حکومت کا ردعمل بعض غیر ملکی عناصر کی جانب سے پھیلائی گئی غلط فہمی پر مبنی تھا۔ کمیٹی نے تمام مسائل کے باوجود افغانستان کیساتھ مثبت بات چیت کے عزم کا اعادہ کیا جس میں یکجہتی کیلئے افغانستان۔پاکستان ایکشن پلان کی پاکستان کی تجویز پر غور کیلئے پاکستانی وفد کا 3 فروری کا دورہ بھی شامل ہے۔

کمیٹی نے افغانستان کے ساتھ بارڈر کنٹرول سے متعلق پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کو پاکستان کی جانب سے افغان سرحد پر باڑ لگانے میں تعاون کرنا چاہئے کیونکہ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف ) کے لائحہ عمل کے تحت بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے سے متعلق حکومت پاکستان اور صوبوں کی طرف سے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا۔

کمیٹی نے اب تک حاصل کئے گئے اہداف پر اطمینان ظاہر کیا جبکہ متعلقہ وزارتوں کو باقی رہ جانے والے چند اقدامات جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ عالمی معاہدوں پر عملدرآمد سے متعلق پاکستان کی جانب سے حاصل کی گئی کامیابیوں کے بارے میں ایف اے ٹی ایف کو بھی آگاہ کیا جائے۔ کمیٹی نے امید ظاہر کی کہ ایف اے ٹی ایف چند ممالک کی جانب سے سیاست کی شکار نہیں ہو گی ٗ قومی سلامتی کمیٹی نے علاقائی امن و استحکام کیلئے اپنا کردار جاری رکھنے کیلئے پاکستان کے مؤقف کے عزم کا اعادہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…