جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

پنجاب سے کم عمر بچوں کی یورپ اسمگلنگ ،یونان میں مقیم پاکستانی سفیر نے وزارت خارجہ کو خط لکھ دیا

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

روم ، اسلام آباد (آن لائن)پنجاب سے کم عمر بچوں کی یورپ اسمگلنگ کے معاملے پر یونان میں مقیم پاکستانی سفیر نے وزارت خارجہ کو خط لکھ دیا۔خط میں سفیر عثمان قیصر نے پاکستان سے یونان کے لئے انسانی سمگلنگ میں اضافے کا انکشاف کیا اور بتایا کہ دسمبر2017 میں یونانی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 23 پاکستانی غیرقانونی تارکین وطن ہلاک ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے پاکستانیوں میں سے 20 کی لاشیں پاکستان روانہ

کردی گئی ہیں جبکہ 3 کی تلاش جاری ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سفارت خانے سے جاری ہونے والے خط میں دفترخارجہ اور وزارت داخلہ کو انتہائی سنجیدہ مسئلے کا فوری نوٹس لینے کا کہا گیا۔پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ادارے انٹرنیشل آفس آف مائیگریشن (آئی او ایم) بھی وطن واپس جانے کے خواہشمند تارکین وطن کی مدد سے گریزاں ہے۔پاکستانی سفارت خانے کے خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بذریعہ یونان یورپ جانے کے لئے منڈی بہاالدین، گجرانوالہ اور سیالکوٹ سے انسانی سمگلنگ میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر روکنے کی ضرورت ہے۔پاکستانی سفیر نے خط میں توجہ دلائی ہے کہ بچوں، کم عمر خواتین، و دیگر افراد کو غیرقانونی طورپر یونان بھجوایا جارہا ہے جس کی روک تھام کے لئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے خاطر اقدامات نہیں اٹھائے جارہیپاکستانی سفیر خالد عثمان قیصر کے مطابق گزشتہ ماہ دسمبر 2017 میں 23 غیرقانونی پاکستانی تارکین وطن سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوچکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے پاکستانیوں میں سے 20 افراد کی لاشیں پاکستان بھجوائی جاچکی ہیں، جب کہ 3 کی تلاش کے لئے یونانی سیکیورٹی حکام اقدامات اٹھارہے ہیں۔

پاکستانی سفارت خانے کے مطابق یونان میں بیروزگاری کی شرح 40 فیصد کی حد تک جاپہنچی ہے اور اس مخدوش معاشی صورتحال میں غیرقانونی پاکستانی تارکین وطن بھی کسمہ پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صورتحال اس حد تک خراب ہوچکی ہے کہ غیرقانونی کم عمر پاکستانی لڑکے اور لڑکیاں “سیکس ورکز” جیسے گھنانے دھندے میں مصروف ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غیرقانونی تارکین وطن جو پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں انہیں بھی سفری دستاویزات نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ بین الاقوامی ادارے انٹرنیشل آفس آف مائیگریشن (آئی او ایم) نے بھی ایسے پاکستانیوں کو وطن واپس بھجوانے سے معذرت کرلی ہے جس کے بعد ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…