بدھ‬‮ ، 01 جولائی‬‮ 2026 

پنجاب سے کم عمر بچوں کی یورپ اسمگلنگ ،یونان میں مقیم پاکستانی سفیر نے وزارت خارجہ کو خط لکھ دیا

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

روم ، اسلام آباد (آن لائن)پنجاب سے کم عمر بچوں کی یورپ اسمگلنگ کے معاملے پر یونان میں مقیم پاکستانی سفیر نے وزارت خارجہ کو خط لکھ دیا۔خط میں سفیر عثمان قیصر نے پاکستان سے یونان کے لئے انسانی سمگلنگ میں اضافے کا انکشاف کیا اور بتایا کہ دسمبر2017 میں یونانی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 23 پاکستانی غیرقانونی تارکین وطن ہلاک ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے پاکستانیوں میں سے 20 کی لاشیں پاکستان روانہ

کردی گئی ہیں جبکہ 3 کی تلاش جاری ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سفارت خانے سے جاری ہونے والے خط میں دفترخارجہ اور وزارت داخلہ کو انتہائی سنجیدہ مسئلے کا فوری نوٹس لینے کا کہا گیا۔پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ادارے انٹرنیشل آفس آف مائیگریشن (آئی او ایم) بھی وطن واپس جانے کے خواہشمند تارکین وطن کی مدد سے گریزاں ہے۔پاکستانی سفارت خانے کے خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بذریعہ یونان یورپ جانے کے لئے منڈی بہاالدین، گجرانوالہ اور سیالکوٹ سے انسانی سمگلنگ میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر روکنے کی ضرورت ہے۔پاکستانی سفیر نے خط میں توجہ دلائی ہے کہ بچوں، کم عمر خواتین، و دیگر افراد کو غیرقانونی طورپر یونان بھجوایا جارہا ہے جس کی روک تھام کے لئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے خاطر اقدامات نہیں اٹھائے جارہیپاکستانی سفیر خالد عثمان قیصر کے مطابق گزشتہ ماہ دسمبر 2017 میں 23 غیرقانونی پاکستانی تارکین وطن سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوچکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے پاکستانیوں میں سے 20 افراد کی لاشیں پاکستان بھجوائی جاچکی ہیں، جب کہ 3 کی تلاش کے لئے یونانی سیکیورٹی حکام اقدامات اٹھارہے ہیں۔

پاکستانی سفارت خانے کے مطابق یونان میں بیروزگاری کی شرح 40 فیصد کی حد تک جاپہنچی ہے اور اس مخدوش معاشی صورتحال میں غیرقانونی پاکستانی تارکین وطن بھی کسمہ پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صورتحال اس حد تک خراب ہوچکی ہے کہ غیرقانونی کم عمر پاکستانی لڑکے اور لڑکیاں “سیکس ورکز” جیسے گھنانے دھندے میں مصروف ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غیرقانونی تارکین وطن جو پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں انہیں بھی سفری دستاویزات نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ بین الاقوامی ادارے انٹرنیشل آفس آف مائیگریشن (آئی او ایم) نے بھی ایسے پاکستانیوں کو وطن واپس بھجوانے سے معذرت کرلی ہے جس کے بعد ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گلاس برج سے


ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…