بدھ‬‮ ، 01 جولائی‬‮ 2026 

بے ایمانی کا مطلب چیٹنگ اور فراڈ ہے‘ چیٹنگ کرنے والوں پر تاحیات پابندی ہونی چاہیے،چیف جسٹس

datetime 31  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے نااہلی کی مدت کے تعین کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا کہ بے ایمانی کا مطلب چیٹنگ اور فراڈ ہے، چیٹنگ کرنے والوں پر تاحیات پابندی ہونی چاہیے، ایک دن اسی شخص نے وزیر یا وزیراعظم بن جانا ہے جبکہ عدالت نے سابق و زیر اعظم نوازشریف کے وکیل کے طلب کرنے پر کیس کی تیاری کیلئے 3 دن کی مہلت دیدی۔ بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی

سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس سجاد علی شاہ ،جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس عمر عطا بندیال لارجر بنچ کا حصہ ہیں پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح اور نااہلی کی مدت کے تعین کے کیس کی سماعت کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے سینئر وکیل اعظم نذیر تارڑ پیش ہوئے اور کیس کی تیاری کیلئے تین دن کا وقت دینے کی درخواست کی جو عدالت عظمیٰ نے منظور کرلی۔دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بے ایمانی کا مطلب چیٹنگ اور فراڈ ہے، چیٹنگ کرنے والوں پر تاحیات پابندی ہونی چاہیے، ایک دن اسی شخص نے وزیر یا وزیراعظم بن جانا ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ پبلک نوٹس ان لوگوں کیلئے تھا جو متاثرہ ہیں، تمام متاثرہ لوگ اپنے لئے ایک مشترکہ وکیل کر لیں، آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین کرنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے پاس آئین کی تشریح کا اختیار ہے ‘شناختی کارڈ پر نااہلی کو دائمی قرار دے چکے ہیں۔وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عدالت کے پبلک نوٹس میں ابہام ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پبلک نوٹس میں غلطی ہو گئی ہوگی، یہ نوٹس صرف متاثرین کیلئے ہے۔ اللہ ڈنو کے وکیل وسیم سجاد نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالت کو تاحیات نااہلی سے متعلق فیصلہ دینا ہوگا۔

62 ون ایف میں کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہے کہ نااہل شخص ضمنی یا آئندہ انتخابات لڑ سکتا ہے؟ وسیم سجاد نے کہا کہ نااہلی کی مدت پانچ سال مقرر کی جائے۔ جسٹس عظمت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالتی ڈیکلریشن پانچ سال بعد از خود کیسے ختم ہوسکتا ہے؟ ایسا ہوا تو آرٹیکل 62 ون ایف غیر موثر ہوجائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پبلک نوٹس میں غلطی ہوگئی ہوگی۔ پبلک نوٹس صرف متاثرین کے لئے ہے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ آرٹیکل 62 اہلیت سے متعلق ضرور ہے مگر اس میں سزا نہیں آرٹیکل 63 میں نااہلیت کے ساتھ سزا کا بھی تعین ہے اس موقع پر عدالتی معاون منیر اے ملک نے سپریم کورٹ میں اپنے دلائل میں کہا کہ عدالتی معاون منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن لڑنا سب کابنیادی حق ہے، اٹھارویں ترمیم سے قبل آرٹیکل 63میں ماضی کے کنڈکٹ پرنااہلی تاحیات تھی، اٹھارویں ترمیم میں پارلیمنٹ کی بصیرت یہ تھی تاحیات نااہلی کو مدت سے مشروط کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گلاس برج سے


ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…