ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

یوٹیوب پر ایک بچے کی شرمناک ویڈیو سامنے آگئی

datetime 29  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ  ڈیسک) پاکستان میں بچوں سے زیادتی کے واقعات کسی سے ڈھکے چھپی نہیں قصور میں پیش آنے والے واقعے کے بعد اس معاملے کی سنگینی کا احساس سب کو ہوا ہے ،اسی سلسلے میں سینئر صحافی ضیاء شاہد بتاتے ہیں کہ چونیاں میں ایک شخص کو لوگوں نے بتایا کہ تمہارے بیٹے کی یو ٹیوب پر فلم چل رہی ہے، لوگوں کی اطلاع پر باپ نے دیکھا تو وہ  زیادتی کی فلم تھی۔باپ غصے میں آگیا اور بچے سے پوچھا تو

پتہ چلا کہ ڈیڑھ سال سے اس کے ساتھ یہی سب کچھ ہو رہا ہے اب اس نے انکار کر دیا  تو یہ فلم اپ لوڈ کر دی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بچوں سے زیادتی کی فلمیں بنتی ہیں اور خریدوفروخت ہوتی ہے جس میں منظم گروہ ملوث ہے جو بااثر بھی ہے۔ ضیا شاہد نے بتایا کہ شک ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے پس پردہ ایک منظم گروہ ہے،شبہ ہے کہ زینب کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ کی بھی ویڈیو فلم بنی ہو گی اور ممکن ہے کہ اسے ویب سائٹ پر لائیو دکھایا گیا ہو۔ دوسرا یہ کہ 300 بچوں سے زیادتی کی خبریں آئیں تو میں ذاتی طور پر قصور گیا تو اس وقت صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ  نے کہا کہ یہ اراضی کا معمولی تنازعہ ہے ایسے کوئی واقعات رونما نہیں ہوئے۔انہوں نے ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے  کہاکہ اسی طرح میرے پاس سرگودھا کے ایک بندے کا کیس ہے۔ ایف آئی اے لاہور نے کیس کی تفتیش کی ملزم نے تسلیم کیا کہ اس نے 6 سو بچوں سے زیادتی کی فلمیں بنائی تھیں اور ناروے کی ویب سائٹ کو بیچی تھیں اور فی فلم 300 یورو کمائے۔ضیاشاہد  نے کہاکہ میں ایک بار بچوں کے ساتھ زیادتی کی خبریں سامنے کے بعد قصور گیا اور ایک مذاکرہ میں تقریر میں کہا کہ قصور کے عوام متحد ہو جائیں اوراس کے خلاف مل کر مہم چلائیں۔ تقریر کے بعد میں گاڑی میں

بیٹھا تو ہمارے نمائندے اور دو اور افراد نے مجھے کہا کہ آپ کے ایک طرف جو ایم پی اے بیٹھا تھا وہی ملزموں کی سفارش کر کے تھانے سے چھڑواتا ہے جبکہ دوسری طرف جو وکلاءکا لیڈر بیٹھا تھا وہی زیادتی کے ملزموں کے کیس لڑتا ہے۔واضح رہے کہ زینب قتل کیس اس وقت سپریم کورٹ میں چل رہا ہے ،شاہد مسعود کے دعوئوں کے بعد اس معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…