جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانیوں کیلئے تشویشناک خبر،سعودی عرب کے بعد عرب امارات نے بھی قانون بدل ڈالا، لاکھوںتارکین وطن کی راتوں کی نیند حرام

datetime 5  دسمبر‬‮  2017 |

ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کی دیکھا دیکھی متحدہ عرب امارات نے بھی کمپنیوں اور کاروباری اداروں کی درجہ و گروہ بندی کا قانون متعارف کروا دیا، غیر ملکیوں کی اقامہ فیس بھی اب اسی گروپ بندی کی مناسبت سے طے ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ملک میں کام کرنے والی کمپنیوں اور کاروباری اداروں کو درجہ و گروہ بندی کا قانون متعارف کروا دیا گیا ہے،

کابینہ کے ایک حالیہ فیصلے کی روشنی میں ان کمپنیوں اور اداروں کوملازمین کی مہارت اور ثقافتی تنوع کی بنیاد پر تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے اقامہ کی فیس کا تعین نہ صرف ملازم کی مہارت و صلاحیت کی بنیاد پر ہوگا بلکہ کمپنی کی کیٹیگری بھی اس پر اثر انداز ہوگی۔وہ کمپنیاں جو اماراتی شہریوں وخلیجی ممالک کے شہریوں کو ملازم رکھیں گی اقامہ کی فیس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ اماراتی شہریوں، اداروں کی ملکیتی ماہی گیر کشتیوں، ایمرٹائزیشن پارٹنرز کلبوں کو اول کیٹیگری میں رکھا گیا ہے ۔ ثقافتی تنوع کی حامل کمپنیوں کو کیٹیگری دوئم میں رکھا گیا ہے اور اس کی اقسام A,B,Cاور Dہوں گی۔دو سال کے لئے اقامہ جاری کرنے کی فیس فرسٹ کیٹیگری کے ملازم کے لئے 300 درہم ہے۔ سیکنڈ کلاس کمپنیوں کے لئے مہارت یافتہ ملازمین کے لئے اقامہ فیس 500 درہم، نیم مہارت یافتہ ملازمین کے لئے 1200 درہم، لیول بی کے مہارت یافتہ ملازمین کے لئے 1000ہزار درہم، نیم مہارت یافتہ ملازمین کے لئے 2200 درہم، لیول سی کے مہارت یافتہ ملازمین کے لئے 1500 درہم، نیم مہارت یافتہ کے لئے 2700درہم، لیول ڈی کے مہارت یافتہ ملازمین کے لئے 2000 درہم اور نیم مہارت یافتہ کے لئے 3200 درہم ہوگی۔ تیسری کیٹیگری سے تعلق رکھنے والے غیرملکی ملازمین کے لئے اقامہ کی فیس 5000 درہم رکھی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…