پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

عدلیہ مقدس گائے نہیں اور ججوں کا احتساب بھی ضروری ہے، سپریم کورٹ

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(اے این این ) سپریم کورٹ نے ججوں کے احتساب کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کوئی مقدس گائے نہیں ۔سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے اوپن ٹرائل کیلئے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں عدالت عظمی کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے درخواست

کی سماعت کی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے اسے اپنی نوعیت کا پہلا اور انتہائی اہم مقدمہ قرار دیا۔جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ججوں کا احتساب بھی ضروری ہے، ہم کوئی مقدس گائے یا بیل نہیں ہیں، تاہم احتساب کرتے وقت عدلیہ کی خودمختاری برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ججوں کے خلاف کارروائی میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب چاہتے ہیں اور ان سوالات کو نہیں دبا سکتے۔سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف کھلی عدالت میں کارروائی پر اٹارنی جنرل سے وفاق کا تحریری موقف طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کردی۔ عدالت عظمی نے شاہد حامد اور منیر اے ملک کو عدالتی معاون بھی مقرر کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…