پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

اگر آپ کی کمر میں ہر وقت درد رہتا ہے تو ان مشوروں پر عمل کریں‎

datetime 23  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) کمر کا درد وہ موزی بیماری ہے کہ جس کا شکار ہونے والا ہی اس کی تکلیف کو سمجھ سکتا ہے۔ اس شدید تکلیف کا شکار ہو کر ناقابل بیان درد سہنے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی زندگی میں کچھ ایسی عادات کو لازم بنا لیں کہ جو آپ کو کمر کے مسائل سے باآسانی بچا سکتی ہیں۔ ﴿ آپ کی کمر کو سہارا دینے کیلئے کمر اور پیٹ کے پٹھے اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر یہ پٹھے مضبوط ہوں گے تو کمر کو سہارا مل سکے گا اور آپ کمر  درد سے محفوظ رہ سکیں گے۔ ان پٹھوں کو کمزوری سے بچانے کیلئے ایسی ورزشیں باقاعدگی سے کریں جو پشت اور سامنے کے پٹھوں کو مضبوط بنائیں۔ ﴿ بیٹھتے اور کھڑے ہوتے وقت پشت کو سیدھا رکھیں کیونکہ ڈھیلے ڈھالے اور سست انداز میں بیٹھنے یا کھڑے ہونے سے جسم کے پٹھوں کو ڈھیلے پڑنے کی عادت پڑ جاتی ہے اور یہ کمر کو سہارا دینے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ﴿اگر آپ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کو کیسے سیدھا کھڑا ہونا ہے تو دیوار کے ساتھ کمر لگا کر کھڑے ہوں۔ آپ کی پشت، کولہے، ایڑیا اور سر دیوار کے ساتھ لگنا ضروری ہے۔ اس انداز کو ذہن نشین کر لیں اور جب بھی کھڑے ہوں تو اسی اندادز میں کھڑے ہونے کی کوشش کریں۔ ﴿ کھڑے ہوں یا بیٹھے ہوں تو سر کو بلند رکھیں گویا کہ آپ کے سر کو کوئی اوپر کی طرف کھینچ رہا ہو، اسی سے آپ کا جسم سیدھا رہے گا۔ ﴿ ایک ٹینس گیند لیں اور اسے کمر کے نیچے اس جگہ رکھیں جہاں درد محسوس ہوتا ہوں۔ اپنے جسم کو اس پر آگے پیچھے حرکت دیں تاکہ درد والی جگہ پر دبا? پڑے۔ یہ متاثرہ جگہ کا قدرتی انداز میں اور انتہائی موثر مساج کرنے کا بہترین اور آسان ترین طریقہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…