اسلام آباد(آئی این پی)حکومتی و اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی میں دوریاں اور تناؤ میں کمی کیلئے مشترک دوست سرگرم ہو گئے ،مل کر سخت ترین حریف جماعت پاکستان تحریک انصاف کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے گا، خاموش مفاہمت کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ کے ساتھ خیبرپختونخوا میں سیاسی ریلیف ملے گا، اپوزیشن کی بڑی جماعت نے پنجاب کے حوالے سے بھی ’’انتخابی ڈیمانڈ‘‘کرتے ہوئے تعاون مانگ لیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے مشترکہ دوست سیاسی تناؤ میں کمی کیلئے متحرک ہو گئے ہیں، پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی میں سیاسی و جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے ممکنہ تعاون کیلئے انجماعتوں کی قیادت کو بلواسطہ طور پر پیغامات بھجوا دیئے گئے، آئندہ ہفتے اس حوالے سے اسلام آباد میں سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان ہے، مشترکہ دوست سیاسی کشیدگی میں کمی دونوں جماعتوں میں ’’خاموش مفاہمت‘‘ کیلئے سرگرم ہیں،ابتدائی طور پر تجاویز کے تبادلے کی بھی اطلاعات ہیں جس میں اپوزیشن جماعت نے پنجاب کے حوالے سے انتخابی ڈیمانڈ کر دی ہے، تاہم اس حوالے سے حکمران جماعت کی طرف سے حتمی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم سندھ،لاہور، خیبرپختونخوا کی حد تک بھرپور تعاون کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ خاموش سیاسی مفاہمت کیلئے آئندہ ہفتے دونوں جماعتوں میں معاملات پر پیش رفت کا قوی امکان ہے۔ان مشترکہ دوستوں نے سرگرمیاں اور رابطے تیز کر دیئے ہیں، مشترکہ تعاون کا مقصد پاکستان تحریک انصاف کی متوقع سیاسی مزاحمت کو کمزور کرنا بھی ہے، سیاسی انتخابی فوائد کیلئے دونوں بڑی جماعتوں میں دوریاں کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، ان میں صوبوں کے انتخابی معاملات بھی شامل ہیں،
مشترکہ دوستوں کی کوشش ہے کہ دونوں جماعتوں کو تناؤ میں کمی کیلئے آمادہ کر کے اپنی مرضی کی سیاسی بساط بچھائی جائے گی، اس حوالے سے اپوزیشن جماعت سے قبل از وقت اگر انتخابات کے معاملے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔



















































