بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت،چلتی بس میں گینگ ریپ کے مشہور مقدمے کا فیصلہ سنادیاگیا

datetime 6  مئی‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی)بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے دہلی گینگ ریپ کیس میں سزائے موت پانے والوں کی جانب سے دی جانے والی درخواست کو مسترد کیے جانے کے بعد 23 سالہ متاثرہ لڑکی جیوتی سنگھ کی والدہ نے کہا ہے کہ ہمیں انصاف مل گیا ہے، ہم اسی دن کے لیے زندہ تھے، ہم ان ملزمان کی عمر قید پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب کبھی بھی پھانسی کی بات کی جائے گی تو اس کیس کی مثال دی جائے گی

بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے گزشتہ روز دہلی گینگ ریپ کیس میں سزائے موت پانے والوں کی جانب سے دی جانے والی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ملزمان کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا ۔سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب کبھی بھی پھانسی کی بات کی جائے گی تو اس کیس کی مثال دی جائے گی۔اس فیصلے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے زیادتی کاشکار ہونے والی 23 سالہ جیوتی سنگھ کی والدہ نے کہا کہ ہمیں انصاف مل گیا ہے، ہم اسی دن کے لیے زندہ تھے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان ملزمان کی عمر قید پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے اس فیصلے پر کہا ہے کہ بھارت کی روح کو جھنجوڑ دینے والیاس دلخراش واقعے میں انصاف مل گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ باعزت، باوقار اور برابری کی بنیاد پر زندگی گزارنا ہر بھارتی بیٹی کا حق ہے اور یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اسے یقینی بنائیں۔تاہم اس موقع پر ملزمان کے وکلا نے کہا ہے کہ ہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔یاد رہے کہ 16 دسمبر 2012 کو نئی دہلی میں 6 لڑکوں نے جیوتی سنگھ نامی ایک لڑکی کو چلتی ہوئی بس میں ریپ کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد انہیں سنگا پور کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 29 دسمبر 2012 کو چل بسی تھی۔اس واقعے کے بعد پورے بھارت میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔

پولیس نے اس کیس میں ملوث 6 ملزمان اکشے ٹھاکر، ونے شرما، پون گپتا، مکیش سنگھ، رام سنگ اور محمد افروز کو گرفتار کر لیا تھا۔کم عمر ہونے کی وجہ سے محمد افروز کو تین سالہ اصلاحی قید با مشقت سنائی گئی تھی اور اسے پچھلے ہی سال رہا کر دیا گیا تھا جبکہ رام سنگھ نے دوران قید مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…