بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ایف بی آئی چیف نے ٹرمپ الزامات مسترد کر دیے

datetime 6  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن(آن لائن)امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مستردکر دیا ہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے حالیہ صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران ان کے فون کی نگرانی کا حکم دیا تھا۔ امر یکی میڈیا کے مطابق جیمز کومی نے امریکی وزارتِ قانون سے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کو مسترد کر دیں۔کہا جا رہا ہے کہ ایف بی آئی ڈائریکٹر نے یہ تردید اس لیے جاری کی ہے

 

کیونکہ ٹرمپ کا دعویٰ یہ غیر مصدقہ تاثر دیتا ہے کہ ایف بی آئی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔جیمز کومی کی اس تردید کے حوالے سے رپورٹ اخبار نیویارک ٹائمز نے شائع کی جبکہ اس کی این بی سی نیتصدیقکی۔اس سے قبل امریکی صدارتی انتخاب کے دوران نیشنل انٹیلیجنس کے ادارے کے ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ یا ان کی انتخابی مہم کی فون کالز کی نگرانی نہیں کی گئی تھی۔سابق ڈائریکٹر انٹیلیجنس جیمز کلیپر نے امریکی ٹی وی چینل این بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں کسی عدالتی حکم کا بھی معلوم نہیں جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی وائر ٹیپنگ کی اجازت دی گئی ہو۔یاد رہے کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ان کے منتخب ہونے سے ایک ماہ قبل ان کی فون کالز ٹیپ کی تھیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک ٹویٹ کی ذریعے کہنا تھا کہ ‘افسوس ناک! ابھی معلوم ہوا ہے کہ اوباما نے ٹرمپ ٹاور میں میری جیت سے ایک ماہ قبل میرا ‘فون ٹیپ کیا’۔ کچھ نہیں ملا، یہ مشتبہ کارروائی ہے۔اس کے جواب میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے فون کالز کی نگرانی کے الزامات بالکل جھوٹے ہیں۔سابق صدر اوباما کے ترجمان کیون لوئس کا کہنا تھا کہ نہ تو صدر اوباما اور نہ ہی ان کی انتظامیہ کے کسی اہلکارنے کبھی کسی امریکی شہری خفیہ نگرانی کا کوئی حکم

 

جاری کیا۔جیمز کلیپر کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس ڈائریکٹر کے طور پر انھیں ایسے کسی بھی عدالتی حکم کا معلوم ہوتا اور وہ اسے خیال کو بالکل رد کر سکتے ہیں۔تاہم انھوں نے کہا کہ وہ دیگر حکومتی اداروں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔این بی سی سے بات کرتے ہوئے جیمز کلیپر نے مزید کہا کہ انتخابات کے دوران صدر ٹرمپ کی انتخابی ٹیم اور روسی حکومت کے درمیان کسی معاونت کے بھی کوئی شواہد نہیں ملے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…