ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

اردوان کی ہنگامی پریس کانفرنس،ترک فوجی دستے شام میں داخل

datetime 12  فروری‬‮  2017 |

استنبول(آئی این پی) ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ترک فوجی دستے اور ان کے اتحادی شامی جنگجو شمالی شامی شہر الباب کے مرکز میں داخل ہو گئے ہیں،الرقہ کی آزادی تک شام میں فوجی آپریشن جاری رہے گا ، شام میں ترکی کے فوجی آپریشن کا حتمی مقصد محض الباب شہر پر کنٹرول نہیں بلکہ داعش تنظیم کو الرقہ شہر سمیت علاقے سے باہر نکالنا ہے۔

غیر ملکی میڈیاکے مطابق اتوار کو خلیجی ممالک کے سرکاری دورے پر روانگی سے قبل ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ شام میں ترکی کے فوجی آپریشن کا حتمی مقصد محض الباب شہر پر کنٹرول نہیں بلکہ داعش تنظیم کو الرقہ شہر سمیت علاقے سے باہر نکالنا ہے۔ آپریشن کے دوران تقریبا 5 ہزار مربع کلو میٹر کے رقبے کی تطہیر کو یقینی بنانا ہے۔ انھوں نے کہاکہ علاقے کو داعش اور کرد پاپولر پروٹیکشن یونٹوں سے پاک کرنے کے بعد ترکی کی افواج کا شام میں باقی رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔اردگان نے یہ بھی بتایا کہ ان کی افواج اور شامی اپوزیشن گروپ شمالی شام میں الباب شہر کے بیچ پہنچ چکے ہیں اور وہ داعش تنظیم کے اس گڑھ پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب ہیں۔استنبول ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اردگان کا کہنا تھا کہ داعش تنظیم کے جنگوں کا شہر سے انخلا شروع ہو گیا ہے۔ترکی کافی عرصے سے اس بات پر زور دے رہا ہے کہ داعش اور کرد پاپولر پروٹیکشن یونٹوں کے مسلح عناصر کو نکال دینے کے بعد شمالی شام میں شہریوں کے واسطے “سیف زون” قائم کیا جائے۔ تاہم ساتھ ہی ترکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نوعیت کے زون پر فضائی آمدورفت کی پابندی عائد کرنا ہوگی۔اردگان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر متعدد بار امریکا اور روس سے بات کی ہے۔

ترک صدر کے مطابق ان کا ملک علاقے میں انفرا اسٹرکچر کی کارروائیوں کے لیے تیار ہے تاکہ شام سے مہاجرین کو ہجرت کرنے سے روکا جا سکے اور ترکی فرار ہوجانے والوں کو شام واپس آنے کا موقع مل سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…