جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

جرمنی نے دس ہزار پاکستانی شہریوں کی درخواستوں پر فیصلہ سنادیا،کتنوں کوپناہ ملی؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 16  جنوری‬‮  2017 |

برلن(این این آئی)جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (بی اے ایم ایف) کی نئی سربراہ یْوٹا کورٹ نے کہاہے کہ موسم بہار کے اختتام تک جرمنی میں جمع کرائی گئی پناہ کی تمام پرانی درخواستوں پر فیصلے سنا دیے جائیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یْوٹا کورٹ حال ہی میں جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (بی اے ایم ایف) کی سربراہ تعینات ہوئی ہیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران ڈیڑھ ملین سے زائد تارکین وطن کی آمد کے باعث ملک میں سیاسی پناہ کی لاکھوں درخواستوں پر اب تک فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔

آئندہ مہینوں کے دوران تمام درخواستیں نمٹانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کورٹ نے کہاکہ ہم نے ہدف مقرر کیا ہے کہ موسم بہار کے اواخر تک جرمنی میں جمع کرائی گئی پچھلی تمام پناہ کی درخواستوں پر فیصلے سنا دیے جائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پناہ کے متلاشی افراد کو جلد از جلد معلوم ہو سکے کہ کیا انہیں جرمنی میں رہنے کی اجازت ہے یا نہیں۔علاوہ ازیں وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن اس سال جمع کرائی جانے والی درخواستوں پر فیصلے بھی پہلے کی نسبت کم دورانیے میں کرے گا۔انہوں نے کہاکہ2016ء کے دوران قریب دس ہزار پاکستانی شہریوں کی درخواستوں پر ابتدائی فیصلے سنائے گئے۔ ان میں سے محض 353 افراد یا 3.5 فیصد کو پناہ دی گئی جب کہ باقی تمام درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

اس کے برعکس افغانستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی پناہ کی درخواستوں کی کامیابی کا تناسب پچپن فیصد رہا جب کہ عراقی تارکین وطن میں سے بھی ستّر فیصد کو جرمنی میں پناہ دے دی گئی۔ شام سے تعلق رکھنے والے قریب سبھی (98.1 فیصد) درخواست دہندہ شہریوں کو بھی جرمنی میں بطور مہاجرین پناہ دے دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…