جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

بینظیر بھٹو کے قتل سے کس کو فائدہ ہوا ؟پرویزمشرف کے انکشافات،نیاتنازعہ کھڑا کردیا

datetime 30  دسمبر‬‮  2016 |

دبئی(آئی این پی)آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین اورسابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے کسی سے بات نہیں کی تھی ، میرا خیال تھا کہ اچانک ای سی ایل سے نام نکالنے کے پیچھے شاید فوج کا ہاتھ ہے ، عدالتوں میں پیش ہونے سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے ، بینظیر بھٹو کومکمل سیکیورٹی دی تھی، ان کے قتل سے کس کو فائدہ ہوا یہ دیکھنا ہوگا، کیسز زیادہ تر سیاسی ہیں انہیں ختم ہوجانا چاہیے نیشنل ایکشن پلان ایک صحیح قانون ہے مگر نافذ نہیں ہورہا ، ملک کے دیگر حصوں کی طرح پنجاب میں بھی کاروائی ہونی چاہیے۔

جمعہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے کسی سے بات نہیں کی نہ کسی سے پوچھا اور نہ کسی نے مجھ سے پوچھا ، میرا خیال تھا کہ اچانک ای سی ایل سے نام نکالنے کے پیچھے آرمی کا ہاتھ ہے ، سب کو پتا ہے کہ حقیقت کیا ہے ،دوسرے لوگ منافقت کرتے ہیں جبکہ میں بول دیتا ہوں ، نہ میں نے کسی سیکہا اور نہ کسی نے مجھ سے پوچھا ، نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے کسی سے بات نہیں کی تھی۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2014میں نام ای سی ایل سے ہٹانے کا آرڈر پاس کیا تھاجسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ،انہوں نے بھی پاس کر دیا ، مجھے2014میں جانے دیا جانا چاہیے تھا لیکن نہیں جانے دیا گیا ، 10سے15دن پہلے امریکہ کے علاج کے بعد واپس آیا ہوں

۔پرویز مشرف نے کہا کہ عدالتوں میں پیش ہونے سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے ، میں پہلے بھی عدالتوں میں گیا ہوں ،دوبارہ پیش ہوجاؤں گا ، کیسز زیادہ تر سیاسی ہیں انہیں ختم ہونا چاہیے ، قتل سے کس کو فائدہ ہوا تحقیقات میں یہ دیکھا جاتا ہے ، بینظیر کے قتل سے کس کو فائدہ ہوا یہ دیکھنا ہوگا۔ بینظیر بھٹو جلسے کے بعد بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھی تھیں ، بے نظیر بھٹو کا بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھنا سیکیورٹی نہیں تو کیا ہے ۔

سابق صدر نے کہا کہ پاکستان میں قانون بنانے کا مسئلہ نہیں بلکہ نافذ کرنے کا مسئلہ ہوتا ہے ، نیشنل ایکشن پلان ایک صحیح قانون ہے مگر نافذ نہیں ہورہا ، ملک کے دیگر حصوں کی طرح پنجاب میں بھی کاروائی ہونی چاہیے ، پاکستان میں سیاسی جماعتیں اپنا اعتبار کھوچکی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم بین الاقوامی طور پر پاپولر تھے ، میرے زمانے میں ہندوستان سے بھی تعلقات اچھے تھے ،ہم مسائل کو حل کرنے جا رہے تھے ، ماضی کے سارے فیصلے درست تھے ۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…