پیر‬‮ ، 02 فروری‬‮ 2026 

’’بھارت بھی پاکستان اور چین کے لازوال منصوبے سی پیک میں شامل ہو جائے‘‘ ہندوستان کو یہ مشورہ کس نے دیا؟

datetime 30  دسمبر‬‮  2016 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے موقر اخبار’دی ہندو‘ نے بھارت کو سی پیک منصوبے میں شامل ہونے کا مشورہ دے دیا۔ بھارت کبھی متحمل نہیں ہو سکتا کہ ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے اور دیگرچینی منصوبوں پر صرف تنقید اور مخالفت کا وطیرہ اختیار کرے۔سی پیک کسی بھی طرح پاکستانی منصوبہ نہیں، یہ منصوبہ صرف پاکستان سے گزرتا ہے یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو64ممالک کو جوڑتا ہے۔
بھارتی اخبار اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ پاکستان اور چین کی طرف سے سی پیک میں شامل ہونے کے لئے بھارت کے ساتھ دیگر ہمسایہ ممالک کو بھی دعوت دی گئی ہے۔ایران پہلے ہی گوادر کو چاہ بہار کی سسٹر پورٹ قرار دے چکا ہے۔ ترکمانستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں نے بھی اس میں شامل ہونے میں دلچسپی کا اظہار کردیا ہے، ان کے لئے سی پیک چین کے شہرکاشغر تک پاکستانی راستے کے ذریعے سامان پہنچانے کا مرکزی راستہ ثابت ہوگا۔
شمال کی طرف پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف مسائل کے باوجود، افغانستان ایران تک جانے والے چینی منصوبوں میں شامل ہوگا۔رواں ہفتے افغانستان پر، روسی چینی اور پاکستانی حکام کے درمیان اجلاس اور طالبان کے ساتھ روسی مصروفیت اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ صرف ہائی ویز یا سرنگیں کی ہی منصوبہ بندی نہیں کی جارہی بلکہ خطے میں بہت کچھ تبدیل ہو نے جا رہا ہے۔
اداریے کے مطابق ایک سینئر پاکستانی جنرل کی طرف سے بھارت کو پاکستان کے ساتھ دشمنی ختم کرنے اور پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے میں شامل ہونے کی تجویز کو چینی وزارت خارجہ نے جذبہ خیر سگالی‘ کی پیشکش قرار دیا اور بھارت سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اس پر سنجیدگی سے غور کرے۔ بظاہر یہ تجویز عجیب لگتی ہے۔
اس وقت بھارت کی پاکستان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہے،اخبار نے تسلیم کیا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے اس مشترکا منصوبے کی بھارت نے’اعلی ترین سطح ‘ پر مخالفت کی یہاں تک کہ اقوام متحدہ میں بھی روڑے اٹکائے۔چین کے ساتھ بھارت کے اس وقت سے تعلقات کافی خراب ہیں جب اپریل 2015میں چینی صدرژی جن پنگ نے اس منصوبے کے اعلان کے لئے دورہ پاکستان کیا۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ نئی دہلی نے اس منصوبے کی اہمیت کو کم کرنے کی بہت کوشش کی، وزیر اعظم نریندر مودی نے چین کے سامنے اس منصوبے پر اعتراض اٹھانے اور بیجنگ کو قائل کرنے کے لئے دورہ چین کیا۔ تاہم، نہ صرف کوریڈور پر تیزی سے کام شروع ہوا اور اس نے عملی شکل اختیار کرلی بلکہ چین اور پاکستان مزید قریب ہو گئے۔
پاکستان نے سی پیک پر کام کرنے والے چینی حکام کی حفاظت کیلئے قابل قدر وسائل کی سرمایہ کاری کی۔ چین نے بھی پاکستان کے مفادات کو شامل کرکے وسطی ایشیا تک ایک بیلٹ ایک سڑک کے منصوبے کی از سرنو منصوبہ بندی کی۔ پاکستان پر دہشت گروپوں کی حمایت کے بھارتی الزامات کے سامنے چین نے پاکستان کا ہی دفاع کیااور بھارت کی نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت کی درخواست پر اعتراض اٹھا دیا۔
ان تمام پس منظر میں پاکستانی جنرل کی تجویز کو صرف ایک بیان ہی سمجھا جا سکتا ہے جب کہ بھارت پر پاکستان مخالف سرگرمیوں اور بلوچستان میں حالات خراب کرنے کے الزامات ہوں۔اخبار کے مطابق بھارت کے پاس سی پیک منصوبے میں شامل ہونے کی ذرا سی بھی کوئی گنجائش ہے، بھارت کے پاس پیچھے ہٹنے کی جگہ تو ہے اور یوں پاکستان اور چین کوترقی کرتا دیکھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…