ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

حلب میں بربریت کاذمہ دار کون؟اوباما نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2016 |

واشنگٹن (آئی این پی) امریکا کے صدر براک اوباما نے شام کے شہر حلب میں نہتے شہریوں کے وحشیانہ قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے وحشت اور بربریت کے سنگین جرائم کی ذمہ داری روس، ایران اور بشارالاسد پر عائد کی ہے اورشامی صدرکو متنبہ کیا کہ وہ قتل و غارت کے ذریعے قانونی حیثیت حاصل نہیں کر سکیں گے، روس شام میں اسدی فوج کے جنگی جرائم کی پردہ پوشی اور دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہا ہے،حلب میں وحشیانہ حملوں پرپوری دنیا کا موقف ایک ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں سال کی آخری پریس کانفرنس کے دوران اوباما نے کہاکہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت، ایران اور روس حلب میں ہونے والی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔

شامی صدر بشارالاسد کو متنبہ کیا کہ وہ قتل و غارت کے ذریعے قانونی حیثیت حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حلب میں اسد حکومت اور اس کے اتحادیوں، روس اور ایران کی طرف سے وحشیانہ حملوں کے خلاف پوری دنیا متحد ہے اور وہاں ہونے والی غارت گری کا لہو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ روس شام میں اسدی فوج کے جنگی جرائم کی پردہ پوشی اور دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہا ہے۔صدر اوباما جن کی مدت صدارت آئندہ ماہ 20 جنوری 2017 کو ختم ہو رہی ہے نے کہا کہ پورے حلب شہر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔ جنگ بندی معاہدہ ہونے کے باوجود شہریوں کی ہلاکتوں کی مسلسل خبریں آ رہی ہیں۔ حلب میں عالمی قوانین کی سنگین پامالیاں جاری ہیں۔

ان تمام وحشیانہ کارروائیوں کی ذمہ داری روس، شام اور ایران پرعاید ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسد رجیم اور روس کے ہاتھ شام میں شہریوں کے خون سے رنگین ہیں۔ صدر اوباما نے کہا کہ نہتے شہریوں کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال سے بشارالاسد اپنی کھوئی ہوئی اخلاقی سیاسی ساکھ بحال نہیں کرسکتے۔ انہوں نے حلب میں محصور شہریوں کے انخلا کو یقینی بنانے کے لیے غیر جانب دار مبصرین تعینات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…