جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

ترکی کو شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر کا درجہ ملنے کا امکان ،مغرب نے اردگان کو تنقید کا نشانہ بنایا ،سابق ترک وزیرخارجہ

datetime 7  دسمبر‬‮  2016 |

بیجنگ(آئی این پی )ترکی نے مغربی اتحادیوں کے رویے سے دلبرداشتہ ہو کر شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں،ترکی کی یہ کوششیں اس وقت بہتر طور پر کامیاب ہونے کا امکان ہے،چند ماہ پہلے کی نسبت شنگھائی تعاون تنظیم نے ترکی کو مبصر کا درجہ ملنے کا زیادہ امکانات پیدا ہوگئے ہیں،ترکی جون2012سے تنظیم کا مذاکراتی شراکت دار ہے۔یہ بات ترکی کے سابق وزیر خارجہ یاسر یاکس نے اپنے ایک تجزیے میں کہی ہے،شنگھائی تعاون تنظیم میں ترکی کے تعلقات کے بارے میں ترکی کے صدر طیب اردگان نے اپنے خلاف انقلاب کی ناکامی کے بعد ایک بار پھر عندیہ ظاہر کیا تھا اور تھا کہ ترکی شنگھائی فائیو میں کیوں شامل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے دوہفتے قبل ازبکستان سے واپسی پر یہ دلیل دی تھی کہ یورپی یونین نے ترکی کے بارے میں کبھی بھی نیک خواہشات کا اظہار نہیں کیا۔

اسلئے اگر ترکی شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بن کر زیادہ سہولت کے ساتھ اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ترکی کے سابق وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ اگر ترکی شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر کا درجہ حاصل کرلیتا ہے تو اس کیلئے مکمل رکن بننا کوئی مشکل نہیں ہے،سنٹر فار یوریشین سٹڈیز کے ڈائریکٹر علیو کیلک نے کہاکہ 2013میں ترکی نے شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر کا رجہ حاصل کرنے کیلئے جو کوشش کی تھی ،اس میں وہ ارکان کو قائل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا کیونکہ رکن ممالک نے اس کی مخالفت کی تھی لیکن اس دفعہ صورتحال مختلف ہے،ترکی کے صدر کے ردعمل پر ممبر رکن ممالک مثبت خیالات ظاہر کریں گے۔ترکی کو 2017کیلئے انرجی کلب کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکی اپنے مغربی اتحادیوں کی طرف سے دل شکستہ ہے،خاص طور پر یورپی یونین اور امریکہ کی طرف سے جو اس پر مجرموں کو پناہ دینے اور کردستان ورکرز پارٹی کو جنگی ہتھیار فراہم کرنے کا الزام لگاتے ہیں ۔حال ہی میں ترکی کے صدر کو ناکام بغاوت کے بعد مغرب کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیااور کہا گیا کہ انہوں نے بے شمار شہریوں کو جیلوں میں بند کیا، ہزاروں سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کیا اور ذرائع ابلاغ کی آزادی کے خلاف کریک ڈاؤن

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…