ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

تین برسوں میں کتنے ارب کے قرضے معاف کئے گئے،حیرت انگیز دعویٰ

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور(این این آئی )امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے کہاہے کہ گزشتہ تین برسوں میں430ارب روپے کے قرض معاف کروانے کی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں،حکمرانوں نے قومی خزانے کولوٹنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی،ملکی ذخائر بڑھاکر24ارب ڈالر کرنے کاکریڈٹ لینے والے دھڑادھڑ عالمی اداروں سے قرضے حاصل کرکے قوم کو غلام بنارہے ہیں،پانامالیکس کے حوالے سے ٹی اوآرز میں قرضے لے کر معاف کروانے والوں کابھی تذکرہ کیاجاناضروری ہے،ملک میں احتساب کانظام ناپید ہوچکا ہے،کبھی بھی چور چورو ں کا احتساب نہیں کرسکتے،نیب کاادارہ لین دین کامرکز بن کر رہ گیا ہے،احتساب کرنے والے اداروں کو بھی کرپٹ اور رشوت خور عناصر سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ پانامالیکس میں479اوردبئی لیکس میں ڈھائی ہزار پاکستانیوں کے نام سامنے آئے ہیں ان لوگوں نے ٹیکس چوری کرکے پاکستان کی معیشت کوناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے۔ کرپشن کرنے والے، ٹیکس چوراور اثاثے چھپانے والے درحقیقت ملک وقوم کے دشمن ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ ان کرپٹ عناصر کے خلاف علم بغاوت بلند کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی ناقص اور عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی،بے روزگاری اورغربت کی انتہاہوچکی ہے۔روزگار میسر نہ ہونے کی وجہ سے غریب عوام کے لیے دووقت کی باعزت روٹی کمانا مشکل ترہوچکا ہے،لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈ ے ہوچکے ہیں۔اس وقت ملک میں کروڑوں افرادایسے ہیں جو سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔میاں مقصود احمد نے مزیدکہاکہ پنجاب اور سندھ کو موجودہ دور حکومت میں برطانیہ کی جانب سے70کروڑ پاؤنڈ یعنی ایک کھرب6کروڑ62لاکھ36ہزارکی امداددی گئی جوکرپشن کی نذرہوگئی۔16سالوں میں نیب کوکرپشن کے حوالے سے30ہزار سے زائدشکایات سرکاری وغیرسرکاری موصول ہوئیں جن میں صرف6ہزار3سوانکوائریوں کومکمل کیاگیا۔حکمرانوں کی بیڈ گورننس کی وجہ سے 90لاکھ پاکستانی بہترمستقبل کی خاطر بیرونی ملک کا رخ کرچکے ہیں ۔اگر ایسے حکمران قوم پر مسلط رہے تو پاکستان کا مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کرپشن سے پاک محب وطن قیادت کو اقتدار کے ایوانوں میں بٹھائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…