پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

خبردار۔۔۔اب شادی کرنے والوں کو جرمانہ ہو اکرے گا

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

برلن(این این آئی)جرمنی میں کم عمری کی شادیوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے جبکہ اگر کسی امام نے اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادیاں کروائیں تواسے ایک ہزار یوروتک جرمانہ ہوگا،میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے یہ تجویز پیش کی کہ آئمہ پر کم عمر لڑکے لڑکیوں کی مذہبی شادیاں کرانے پر مکمل پابندی عائد کر دینا چاہیے۔ جرمنی کے ایسے آئمہ جو اٹھارہ برس سے کم عمر لڑکے لڑکیوں کی شادیاں کرائیں گے، انہیں ایک ہزار یورو تک کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔جو بھی امام اس کی خلاف ورزی کرے گا، اس کو ایک ہزار یورو تک کا جرمانہ کیا جائے گا۔ جرمنی میں کسی لڑکے یا لڑکی کو قانونا شادی کے قابل اس وقت سمجھا جاتا ہے، جب اس کی عمر اٹھارہ برس ہو جاتی ہے جبکہ عمومی اسلامی تشریحات کے مطابق کسی بھی لڑکے یا لڑکی کی شادی اس وقت کی جا سکتی ہے، جب وہ جسمانی طور پر بالغ ہو اور اس میں عمر کی قید کا کوئی تصور نہیں ہے۔جرمن وزارت داخلہ نے یہ تجویز اس گروپ کو پیش کی ہے، جو وفاقی اور ریاستی سطح پر نو عمری کی شادیوں کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔ اس گروپ کا قیام ستمبر کے آغاز پر عمل میں لایا گیا تھا۔ اس گروپ میں نہ صرف جرمن صوبوں کے نمائندے بلکہ جرمن چانسلر کے دفتر، وزارت انصاف اور وزارت برائے خاندانی امور کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ یہ گروپ رواں برس کے اختتام تک شادی کے قانون میں ترمیم لانے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔جرمنی کے موجودہ قانون کے مطابق کسی بھی لڑکے یا لڑکی کی شادی اٹھارہ برس کے بعد کرنے کی اجازت ہے لیکن غیر معمولی صورتحال میں شادی سولہ برس کی عمر کا ہونے کے بعد بھی کی جا سکتی ہے۔مستقبل میں بیرون ملک کم عمری میں کی جانے والی شادیاں صرف مخصوص شرائط کے پورا ہونے پر ہی تسلیم کی جائیں گی۔ جرمنی میں اس وقت کم عمری میں کی جانے والی شادیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی بھی واضح اعداد و شمار نہیں ہیں۔ رواں برس موسم گرما میں جرمنی میں غیر ملکیوں کے مرکزی رجسٹر میں تقریبا 1،475 نو عمر افراد کی شادیوں کا اندراج کرایا گیا تھا۔ ان میں سے 481 کی عمریں سولہ برس سے بھی کم تھیں جبکہ 1152 لڑکیوں کی شادیاں کم عمری میں کر دی گئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…