ہفتہ‬‮ ، 13 جون‬‮ 2026 

’’ نیو کلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کیلئے بھارت کی سر توڑ کوششیں، چین نے بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیئے

datetime 10  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ) چین نے اشارہ دیا ہے کہ وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ(این ایس جی) میں بھارت کی شمولیت کے حوالے سے ’ممکنات‘ پر غور کرنے کا خواہاں ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی این ایس جی کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ بھارت میں روس ، امریکا اور فرانس کی شراکت سے اربوں ڈالر کے نیوکلیئر پاور پلانٹس تعمیر کیے جاسکیں اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آلودگی پھیلانے والے ذرائع پر انحصار کم کیا جاسکے۔اب تک بھارت کی این ایس جی میں شمولیت کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی کیوں کہ 48 رکنی گروپ میں چین اس کی شمولیت کا مخالف ہے اور قانون کے مطابق این ایس جی میں کسی بھی نئے رکن کی شمولیت کے لیے ضروری ہے کہ تمام ارکان اس پر متفق ہوں۔چینی صدر شی جن پنگ رواں ہفتے برکس ممالک کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں اور اس دورے سے قبل چین کے نائب وزیر خارجہ لی باؤ دونگ کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ نئے رکن کی شمولیت کے لیے تمام ارکان کا متفق ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ’یہ قانون چین نے نہیں بنائے، این ایس جی کی رکنیت کے معاملے پر چین اور بھارت کے درمیان خوشگوار رابطے رہے ہیں اور چین چاہتا ہے کہ اس معاملے پر اتفاق رائے کے لیے بھارت کے ساتھ بات چیت جاری رہے‘۔لی باؤدونگ نے کہا کہ ’چین بھارت کی رکنیت کے حوالے سے مشترکہ طور پر ممکنات کا جائزہ لینے کا خواہاں ہے تاہم یہ این ایس جی کے چارٹر کے مطابق ہونا چاہیے اور اس کے قوانین کا سب کو احترام کرنا چاہیے‘۔واضح رہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کو جوہری طاقت کے حامل ملک تسلیم کیا جاتا ہے۔این ایس جی میں شمولیت کے لیے ضروری ہے کہ پہلے این پی ٹی پر دستخط کیا جائے تاہم بھارت نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں تاہم اس کا کہنا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے اس کے ماضی کے ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے این ایس جی میں شمولیت کی اجازت دینی چاہیے۔بھارت کو 2008 میں این ایس جی کی جانب سے رعایت دی گئی تھی جس کے تحت اسے نیوکلیئر کامرس میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی تاہم اسے ادارے کی فیصلہ سازی میں ووٹ کا حق نہیں دیا گیا تھا۔
بھارت کی این ایس جی میں شمولیت کے حامی ممالک میں امریکا بھی شامل ہے اور انہیں امید ہے کہ جون میں سیؤل میں ہونے والے این ایس جی کے سالانہ اجلاس میں ناکامی کے باوجود مستقل میں کوئی ڈیل ہوسکتی ہے۔یاد رہے کہ ہندوستان کی این ایس جی رکنیت میں دلچسپی کے بعد پاکستان نے بھی اپنی رکنیت کے لیے لابنگ شروع کردی تھی اور اس حوالے سے مئی میں باضاطہ طور پر درخواست بھی جمع کروائی تھی۔تاہم جون میں ہونے والے این ایس جی کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کی رکنیت کی درخواست پر غور ہی نہیں کیا گیا۔چینی صدر اپنے دورہ ایشیا کے دوران بنگلہ دیش اور کمبوڈیا بھی جائیں گے۔یاد رہے کہ ابھرتے ہوئے ممالک کے گروپ ’برکس ‘ میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقا شامل ہیں۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…