بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

عقل مندبادشاہ

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ایک بادشاہ کی عدالت میں کسی ملزم کو پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے مقدمہ سننے کے بعد اشارہ کیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ بادشاہ کے حکم پر پیادے اسے قتل گاہ کی طرف لے چلے تو اس نے بادشاہ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ کسی شخص کے لئے بڑی سے بڑی سزا یہی ہو سکتی ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے اور چونکہ اس شخص کو یہ سزا سنائی جا چکی تھی اس لئے اس کے دل سے یہ خوف دور ہو گیا تھا کہ

بادشاہ ناراض ہو بھی گیا تو اب معافی کہاں ملنی ہے۔۔۔’’بادشاہ نے یہ دیکھا کہ قیدی کچھ کہہ رہا ہے تو اس نے اپنے وزیر سے پوچھا “یہ کیا کہہ رہا ہے؟۔۔۔بادشاہ کا وزیر بہت نیک دل تھا ۔۔۔اس نے سوچا اگر ٹھیک بات بتا دی جائے تو بادشاہ غصے سے دیوانہ ہو جائے گا اور ہو سکتا ہے قتل کرانے سے پہلے قیدی کو اور عذاب میں مبتلا کرے۔ اس نے جواب دیا:’’بادشاہ سلامت…! یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ پاک ان لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو غصے کو ضبط کر لیتے ہیں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں‘‘۔وزیر کی بات سن کے بادشاہ مسکرا دیا اور اس نے حکم دیا کہ اس شخص کو آزاد کر دیا جائے۔۔۔بادشاہ کا ایک وزیر پہلے وزیر کے مخالف تھا اور بہت تنگ دل تھا، وہ خیر خواہی جتانے کے انداز میں بولا:’’بادشاہ سلامت..! یہ بات ہرگز مناسب نہیں ہے کہ کسی بادشاہ کے وزیر اسے دھوکے میں رکھیں اور سچ کے سوا کچھ اور زبان پہ لائیں اور سچ یہ ہے کہ قیدی حضور کی شان میں گستاخی کر رہا تھا۔ غصہ ضبط کرنے اور بھلائی سے پیش آنے کی بات نہیں کر رہا تھا‘‘۔۔۔وزیر کی بات سن کر نیک دل بادشاہ نے کہا:’’اے وزیر..! تیرے اس سچ سے جس کی بنیاد محض بغض اور حسد پر ہے، تیرے بھائی کی غلط بیانی لاکھ درجہ بہتر ہے کیونکہ اس سے ایک بےبس انسان کی جان بچ گئی۔ یاد رکھ…! اس سچ سے جس سے کوئی بہت بڑا فساد پھیلتا ہو، ایسا جھوٹ بہتر ہے

جس سے کوئی بُرائی دُور ہونے کی امید ہو‘‘۔روایت ہے کہ اس کے بعد بادشاہ نے قیدی کی سزا معاف کر دی جبکہ اپنے اس وزیر کو جو اپنے دل میں ساتھی وزیر کے لیے کینہ رکھتا تھا، کے لیے موت کا فرمان جاری کر دیا۔۔۔وہ سچ جو فساد کا سبب ہو، بہتر ہے نہ وہ زبان پہ آئے اور اچھا ہے وہ کذب ایسے۔۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…