جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

میرے راولپنڈی پہنچنے سے پہلے یہ کام نہ ہوا تو!!! ذمہ داری شریف برادران پر ہوگی‘کارکن کمر کس لیں

datetime 3  ستمبر‬‮  2016 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے قائد پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری نے وفاقی، پنجاب حکومتوں سمیت راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کو الٹی میٹم دیا ہے کہ ان کے راولپنڈی پہنچنے سے پہلے پہلے راستوں سے کنٹینر ہٹا دیئے جائیں وگرنہ تمام حالات کی ذمہ داری وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر عائد ہوگی۔ یہ الٹی میٹم انہوں نے لاہور سے راولپنڈی روانہ ہونے سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے دیا۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں لیاقت باغ میں ہمارے دھرنے اور احتجاج کی جگہ ہے لیکن انتظامیہ نے لیاقت باغ کے اردگرد 2 سے 3 میل کے اندر شہر کی سڑکیں بند کردی ہیں جبکہ ہمارا مارچ قصاص اور پاکستان کی سالمیت کے لئے ہے۔
آصف علی زرداری کے دور حکومت میں آپ نے بھی مارچ منعقد کئے لیکن اس وقت تو کنٹینر نہیں لگائے گئے تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اس سے قبل بھی ہمارے مارچ اور دھرنے ہوئے ایک پتا بھی نہیں ٹوٹا۔ آخر آج کیا تبدیلی آئی ہے کہ شہر کو کربلا بنا دیا گیا ہے۔ شہر کا پورا محاصرہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ تین گھنٹے سے اپنی قیادت سے رابطے میں ہیں۔ ان کی موومنٹ ناممکن بنا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتا ہوں لیکن جمعہ کی رات 12بجے میں نے فیصلہ کیا کہ راولپنڈی کی قصاص ریلی میں ذاتی طور پر جاکر شرکت کروں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا مارچ احتجاجی پروگرام کے پہلے مرحلے کا آخری مارچ ہے جس میں میں اگلے مرحلے کا اعلان کروں گا۔ میں آج کے مارچ میں پانامہ لیکس کے کرداروں پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے پاکستان کی سالمیت پر بات کرتی ہے۔ اس لئے پوری قوم اور دنیا جانتی ہے کہ میری آمد پر کیا ہوگا۔ بہتر ہے کہ راولپنڈی کنٹینروں سے پاک کردیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…