اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ثالثی ٹریبونل کے فیصلے کا چین کی خود مختاری اور جنوبی بحیرہ چین میں اس کے جہاز رانی کے حقوق اور مفادات پر کسی بھی طرح کوئی اثر نہیں پڑے گا ، چین جنوبی بحیرہ چین کے تنازعے پر دوطرفہ مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے احترام ، تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں اس مقصد کے تحت حل کرنا چاہتا ہے کہ علاقائی امن و سلامتی برقراررہے ، ٹریبونل کی طرف سے دی گئی رولنگ کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے کیونکہ نن شا جزائر زمانہ قدیم سے چین کی ملکی حدود کا حصہ ہیں۔
یہ بات روس میں چین کے سفیر لی ہوئی نے روسی ذرائع ابلاغ کو ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ چینی سفیر نے اپنے اس موقف کو دوہرایا کہ چین نے یکطرفہ طورپر قائم کئے گئے ثالثی ٹریبونل کی سماعت میں حصہ لینے سے انکارکردیا تھا اس لئے وہ اس کی رولنگ کو تسلیم نہیں کرتا ،ہم بین الاقوامی قانون کی روشنی میں اپنے حقوق کا تحفظ جاری رکھیں گے اور عالمی قوانین کے وقار کا تحفظ کریں گے ،چین کی سلامتی کو چیلنج کیا گیا تو یہ ریڈ لائن کو عبور کرنے کے مترادف ہو گا۔انہوں نے کہا کہ چین اپنے قانونی مفادات سے پیچھے نہیں ہٹے گا ، ہم اپنی سر زمین کے ایک ایک انچ اور سمندر کی ہر ساحلی پٹی کا پورے عزم کے ساتھ دفاع کریں گے۔
’’عالمی عدالت سے ٹکراؤ‘‘ چین کی سلامتی کو چیلنج کیا تو؟ واضح پیغام دیدیا گیا۔۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کردی
-
نیٹ بلنگ قوانین کے نفاذ کے بعد پاکستانیوں نے متبادل حل نکال لیا
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری!
-
موسم گرما کی سرکاری تعطیلات،حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ
-
سولر صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
حملے کا خدشہ، سعودی عرب میں ہائی الرٹ
-
12 ربیع الاول کی چھٹی سے متعلق اہم خبر آگئی
-
اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی کے مفت صارفین کیلئے بہت بڑا تحفہ
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
نیٹ بلنگ قوانین کا نفاذ ،پاکستانیوں نے متبادل حل نکال لیا،حکومت کیلئے نئی مشکل کھڑی ہوگئی
-
موسم کا تیور بدل گیا، ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان
-
تھائی لینڈ؛ دورانِ پرواز خاتون کیساتھ نازیبا حرکات پر پاکستانی سیاح گرفتار
-
گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے ٹرانسپورٹ الاؤنس میں بڑا اضافہ
-
عبداللہ شفیق کا وہ کارنامہ جو گزشتہ 49 سال میں کوئی پاکستانی انجام نہ دے سکا



















































