پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

ترکی بغاوت کے الزام میں گرفتارافرادکی حمایت میں بڑی آواز اُٹھ گئی

datetime 19  جولائی  2016 |

واشنگٹن(این این آئی)متعدد عالمی لیڈروں نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد تطہیر کے عمل کے دوران قانون کی حکمرانی کا احترام کریں،ترک حکومت نے اقتدار پر قبضے کی سازش میں ملوّث ہونے کے الزام میں فوج ،پولیس اور دوسرے محکموں کے اہلکاروں اور افسروں کی برطرفیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اب تک ہزاروں سرکاری عہدے داروں کو فارغ خطی دی جاچکی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی نے ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ ملک (ترکی) کو بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے دور لے جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔اس معاملے میں ہم کڑی نگرانی کریں گے۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی کو اپنے جمہوری اداروں اور قانون کی حکمرانی کے اعلیٰ معیارات کو برقرار رکھنا چاہیے۔انھوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث اہلکاروں کو پکڑنے کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ہم اس سے ماورا اقدامات پر انتباہ کرتے ہیں۔معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور اس کے بعد ایک بیان میں ترکی پر زوردیا ہے کہ وہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد اتحاد کے کسی بھی دوسرے ملک کی طرح قانون کی حکمرانی اور جمہوریت ،جمہوری اداروں ،آئین اور بنیادی آزادیوں کا مکمل احترام کرے۔جرمن چانسلر اینجیلا میرکل نے صدر ایردوآن پر واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ترکی میں پھانسی کی سزا کی بحالی کا شدید مخالف ہے۔جرمن حکومت کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ ترک صدر فوجی بغاوت کی سازش کے ذمے داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سزائے موت کی بحالی کے خواہاں ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو ترکی یورپی یونین کا رکن نہیں بن سکے گا۔برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے پارلیمان (دارالعوام) میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ بہت جلد صدر ایردوآن سے بات کرنے کی خواہاں ہیں۔ہم ترکی کے آئین کی مکمل پاسداری کا مطالبہ کرتے ہیں اوروہاں قانون کی حکمرانی برقرار رہنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…