جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

آرمی پبلک سکول کے معصوم بچو ں کا قا تل عبرتنا ک انجام کا شکا ر ۔۔۔کیا ہو ا؟ جان کر خو ش ہو جا ئینگے

datetime 12  جولائی  2016 |

پشاور(مانیٹر نگ ڈیسک ) 2 سینئر سکیورٹی عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاورکے آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والا ماسٹر مائنڈ عمر منصور عرف عمر نارے افغانستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں عہدیداروں نے بتایا کہ گزشتہ روز افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے علاقے بندار میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں آرمی پبلک اسکول حملے کے ماسٹر مائنڈ عمر منصور عرف خلیفہ منصور عرف عمر نارے کے ساتھ ایک اور عسکریت پسند رہنما قاری سیف اللہ بھی مارا گیا۔
ایک سکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ڈرون حملے میں عمر نارے کے ساتھ قاری سیف اللہ کی ہلاکت کی مصدقہ رپورٹس ہیں، عمر منصور اور اس کا ساتھی سانحہ آرمی پبلک سکول کا ماسٹر مائنڈ ہے۔دوسری جانب ایک اور سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ قاری سیف اللہ کی ہلاکت پر کچھ شکوک و شبہات ہیں تاہم امریکی ڈرون حملے میں سیف اللہ کی ہلاکت کے 90 فیصد امکانات ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ قاری سیف اللہ کو کس علاقے میں ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔واضح رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو کالعدم تحریک طالبان کے عسکریت پسندوں نے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرکے 140 سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جن میں سے زیادہ تر معصوم بچے تھے۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…