اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

یورپی یونین کا تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے سرحدی فورس کا قیام 

datetime 23  جون‬‮  2016 |

برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک)یورپی یونین میں تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے ایک نئی سرحدی اور کوسٹ گارڈ فورس کے قیام کا معاہدہ تشکیل دینے پر اتفاق رائے ہو گیا ۔نئی سرحدی فورس کا معاہدہ تارکین وطن کی یورپ آمد کے معاملے سے نمٹنے کے لیے یورپی بلاک کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے،اس معاہدے کے تحت نئی مشترکہ یورپی فورس یونان اور اٹلی جیسے ممالک، جہاں مہاجرین کی رسائی آسان ہے، کی بیرونی سرحدوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے زیادہ اختیارات کی حامل ہو گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 28رکنی یورپین یونین اور یورپی پارلیمنٹ کے مذاکرات کاروں نے کہا کہ انہوں نے یورپی کمیشن کی جانب سے موسم گرما تک فوج کی تعیناتی کی تجویز کی حمایت کی تھی۔ امید ہے کہ آئندہ ہفتے اس معاملے پر ایک اہم کمیٹی میں یورپی پارلیمان ووٹنگ کرے گی۔ اور اگر رائے شماری اس تجویز کے حق میں ہو جاتی ہے تو اس پر عمل درآمد کے لیے آئندہ ماہ فرانسیسی شہر شٹراس برگ میں مکمل اجلاس بلایا جائے گا۔
یورپی کمیشن کے صدر اور فورس کے قیام کی تجویز کے مرکزی پیش کار ژاں کلود ینکر کا کہنا تھاکہ یورپی سرحد اور کوسٹ گارڈ کی تخلیق کے معاہدے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یورپ مشترکہ چیلنجز سے تیزی سے نمٹنے اور دل جمعی سے کام کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔سرحدوں پر کنٹرول برسوں پہلے شینگن معاہدے کے تحت ہٹا دیا گیا تھا۔ تاہم سال 2015 کے آغاز سے مہاجرین کی یورپ میں ریکارڈ آمد کے ساتھ اسے دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت رکن ممالک اب بھی روزانہ کی بنیاد پر اپنی سرحدوں کو منظم رکھیں گے لیکن ہنگامی صورت حال میں 1500 سیکیورٹی محافظین کے مشترکہ دستوں سے مدد طلب کرنے کے مجاز ہوں گے۔ نئی فورس کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں قائم یورپی بارڈر ایجنسی فرونٹیکس کے حجم اور فرائض میں توسیع سمجھا جا سکتا ہے۔ یورپی پارلیمان کے مطابق نئی فورس معاشی وجوہات کی بنا پر یورپ پہنچنے والے مہاجرین کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔اس معاملے پر سرکردہ یورپی مزاکرات کار آرٹس پابرک کا کہنا تھا، ’’ نئی فورس اس بات کو یقینی بنائے گی کہ یورپ کی بیرونی سرحدیں محفوظ اور بہتر طور پر منظم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…