جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

9/11 کے بعدامریکی پاکستان پر حملہ کر دیتے اگر ۔۔۔؟ ایک سینئر سیاستدان کا حیرت انگیز انکشاف

datetime 28  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے انکشاف کیا کہ 1998 ء میں ایٹمی تجربے کا فیصلہ خالصتاََ سیاسی تھا‘اگر 1998ء میں پاکستان دھماکے نہ کرتا تو 9/11 کے بعد امریکہ پاکستان پر حملہ کر دیتا۔ مشاہد حسین سید کا کہناتھا کہ اس وقت کی حکومت پر بہت زیادہ عالمی دباؤ تھا کہ ایٹمی دھماکے نہ کئے جائیں۔ اس سے پہلے وزیراعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی نے بھی انکشاف کیا تھا کہ بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے سے متعلق وزیراعظم نواز شریف کا فیصلہ غیر متزلزل رہا حالانکہ پاکستان پر عالمی طاقتیں دھماکے نہ کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی تھیں، اس کے باوجود وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہم کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائیں گے، مسلم دنیا نے پاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر فخر کا اظہار کیا، پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے مسلم دنیا کو بھی تحفظ کا احساس ہوا، ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان، بھارت کے درمیان کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا، پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نے اسے کسی بھی نئی جنگ سے بچایا، پاکستان کے جوہری طاقت بننے سے خطے میں طاقت کا توازن پیدا ہوا، اقتصادی ترقی کیلئے بہتر سلامتی کی صورتحال بہت ضروری ہے۔وہ ہفتہ کو سرکاری ٹی وی سے گفتگو کر رہے تھے۔ سعید مہدی نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کو بھارتی ایٹمی جوہری دھماکوں کی اطلاع دی گئی، وزیراعظم نے فوری آرمی چیف سے رابطے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے متعلقہ لوگوں کو جوہری دھماکوں کی تیاری کیلئے کہا، الماتے سے فوری بعدوزیراعظم نے دھماکے کرنے سے متعلق اجلاس طلب کیا، وزیراعظم نے ایٹمی دھماکوں کی تیاری سے متعلق ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے دریافت کیا، وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف سے ملاقات میں واضع کیا کہ ہم دھماکے کریں گے ، وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہم کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائیں گے، وزیراعظم نے ایٹمی دھماکوں سے قبل کابینہ کو بھی اعتماد میں لیا، ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے حوالے سے پاکستان پر عالمی طاقتیں دباؤ ڈال رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کلنٹن نے وزیراعظم نواز شریف کو چارمرتبہ ٹیلی فون کیا، وزیراعظم کو امریکہ کی جانب سے مراعات پیشکش کی گئی، وزیراعظم تمام دباؤ کے باوجود دھماکوں کیلئے پرعزم رہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کرنے سے متعلق وزیراعظم نواز شریف کا فیصلہ غیر متزلزل رہا، مسلم دنیا کے پاکستان کے ایٹمی دھماکے کے بعد اس پر فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے مسلم دنیا کو بھی تحفظ کا احساس ہوا، ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان، بھارت کے درمیان کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا، پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نے اسے کسی بھی نئی جنگ سے بچایا، پاکستان کے جوہری طاقت بننے سے خطے میں طاقت کا توازن پیدا ہوا، اقتصادی ترقی کیلئے بہتر سلامتی کی صورتحال بہت ضروری ہے۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…