اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کا آف شور کمپنی اکاﺅنٹنٹ کے کہنے پر بنانے کا اعتراف

datetime 14  مئی‬‮  2016 |

لندن( آئی این پی ) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے 1983میں آف شور کمپنی بنائیتاکہ ٹیکس بچا جا سکے اوراس زمانے میں کاونٹی کرکٹ کے پیسے سے لندن میں فلیٹ خریدا،میں برطانیہ کا شہری نہیں تھا اس لئے میرا یہ حق تھا آف شورکمپنی بناﺅں ۔ وہ جمعہ کو لندن میں ہیتھرو ائیر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ نے یک طرفہ ضابطہ کار تیار کرکے سپریم کورٹ کو پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے خط لکھ دیا تھا ۔ جب تک اپوزیشن اور حکومت مل کر کوئی حتمی ضابطہ کار تیار نہیں کر لیتے تب تک اس پر سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن نہیں بنا سکے گا کیوںکہ پھر وہ کمیشن انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کر پائے گا ۔ عمران خان کا پانامہ لیکس میں نام آنے کے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں 1980 کی دہائی میں کاوئنٹی کرکٹ کھیلتا تھا انگلینڈ میں اور اس پیسے میں سے 35 فیصد ٹیکس ادا کرتا تھا ۔ عمران خان نے کہا کہ میں برطانیہ کا شہری نہیں تھا اس لئے میرا حق تھا آف شور کمپنی بناﺅں۔ آف شور کمپنی اکاﺅنٹنٹ کے کہنے پر بنائی تاکہ ٹیکس سے بچا جا سکے یہ کمپنی 1983 میں بنائی انہوں نے کہا کہ میں نے قانونی طریقے سے کمپنی بنائی اور پھر لندن میں فلیٹ خریدا جسے 2003 میں بیچ کر سارا پیسہ پاکستان منتقل کر دیا ۔ عمران خان نے کہا کہ میں ان پاکستانیوں میں سے ہوں جو 19 ارب ڈالر باہر غیر ممالک سے کما کر پاکستان بھیجتے ہیں جس کے اوپر پاکستان چلتا ہے ۔ جب کہ یہاں نواز شریف اور ان کی فیملی ان پاکستانیوں میں سے ہیں جو پاکستان کو تباہ کر رہے ہیں اور پاکستان سے پیسہ کرپشن کرکے ملک سے غیر قانونی طور پر باہر منتقل کرتے ہیں جس سے پاکستان کا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گرتا ہے یہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ میاں نواز شریف نے جو کیا وہ جرم ہے اور میں نے جو کیا یہ جرم نہیں ہے یہ میرا جائز حق ہے ۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے عمران خان سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر یہ پیغام بھی دے چکے ہیں کہ آف شور کمپنی وہی کھولتا ہے جو غیر قانونی آمدنی چھپاتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…