جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

پانامہ لیکس معاملہ ، چیف جسٹس نے انکار کر دیا

datetime 13  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے پانامہ لیکس پر جوڈیشل کمیشن بنانے سے متعلق حکومتی خط کو نا مکمل قرار دیدیا ، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے جوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھیجی گئیں ٹرمز آف ریفرنس(ٹی او آرز) سے تحقیقات میں سالوں لگ جائیں گے اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی اور انفرادی،خاندانوں اورگروپوں کی فہرست فراہم کی جائیں تو سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن بنانے پر غور کر سکتی ہے ۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز رجسٹرار سپریم کورٹ نے سیکرٹری قانون کو پانامہ لیکس پر جوڈیشل کمیشن بنانے سے متعلق چیف جسٹس آف پاکستان کے فیصلے سے آگاہ کرد یاہے ،جوابی خط میں چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک فریقین کے درمیان ٹی اوآرز طے نہیں ہو جاتے تب تک جوڈیشل کمیشن قائم نہیں کیا جاسکتا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کمیشن کی تشکیل کیلئے پہلے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے ،بغیر قانون سازی کے جوڈیشل کمیشن کا قیام ناممکن ہے ، خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹی اوآرزحکومت کی طرف سے دیئے گئے ہیں ان کے مطابق تحقیقات میں سالوں لگ جائیں گے۔چیف جسٹس کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ انفرادی،خاندانوں اورگروپوں کی فہرست دی جائے جن کے خلاف تحقیقات کرنی ہے،حکومت کی جانب سے بھیجی گئیں ٹی او آرز میں تحقیقات سے متعلق کوئی معلومات نہیں دی گئیں،چیف جسٹس نے خط میں مزید کہا ہے کہ اگر فریقین متفقہ ٹی او آرز اور مناسب قانون سازی کی جائے تو عدالت جوڈیشل کمیشن کے قیام پر غور کریگی۔ واضح رہے کہ پاناما لیکس پر کمیشن بنانے کیلئے 5 اپریل کو حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کو خط لکھا گیا تھا کہ اس معاملہ پر کمیشن بنایا جائے تاہم اپوزیشن کی جانب حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے ٹی او آرز کو مسترد کرتے ہوئے شدید تنقید کی ۔ ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…