جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

کراچی،سپریم کورٹ کا عوامی مقامات سے تمام بل بورڈز 15روز میں ہٹانے کا حکم

datetime 5  مئی‬‮  2016 |

کراچی ( نیو زڈیسک )سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی کے پبلک مقامات ، فلائی اوورز ، گلیوں ، گرین بیلٹس اور فٹ پاتھوں سے تمام بل بورڈ 15دن میں ہٹانے کا حکم دیا ہے جبکہ شہر بھرمیں بل بورڈز کے حوالے سے یکساں قانون بنانے کے احکامات جاریکئے ہیں۔جمعرات کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کراچی میں بل بورڈز، ہورڈنگز اور سائن بورڈز کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے کہا کہ ہمارے نزدیک اس معاملے میںعوامی حقوق سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہے۔دنیا بھر میںشہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے ۔جسٹس ثاقب نثار نے دوران سماعت سوال کیا کہ فٹ پاتھ پر کون بڑے بڑے کھمبے لگانے کی اجازت دیتا ہے۔ فٹ پاتھ پر قبضہ عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عوام کا حق ہے کہ وہ پیدل چلیں۔سماعت کے دوران جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہاکہ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ بل بورڈز کے لئے درخت کاٹے جا رہے ہیں ، شہر میں رات سینکڑوں درخت کاٹ دئیے گئے ۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انسانی زندگی سے زیادہ کسی بات کی اہمیت نہیں ہے ۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بیان دیا کہ شہر میں 17 مختلف ادارے کام کر رہے ہیں جن کے اپنے قوانین ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کے ایم سی کس قانون کے تحت بل بورڈ لگانے کی اجازت دیتا ہے۔ دوران سماعت ایڈووکیٹ جاوید میر نے عدالت کو بتایا کہ کلفٹن میں ایک وزیر کے فون پر غیر قانونی بل بورڈ اور سائن بورڈ لگائے جا رہے ہیں ۔جسٹس ثاقب نثار نے ہدایت کی ہے کہ عوامی مقامات پر لگے تمام بل بورڈ اورہوڈنگ مدت پوری ہونے پر ہٹا دیئے جائیں۔ عوامی مقامات پر بل بورڈ اور ہوڈنگ لگانے کے قانون میںکہیںکوئی شق موجود نہیںہے۔جسٹس خلجی عارف نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پورا کراچی بل بورڈز کا جنگل بنا ہوا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ اختیار ہے۔ پل اور سڑکوں پر بل بورڈز لگانے کا اختیار کس نے دیا؟ حکومت سندھ کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر لگے بورڈزغیرقانونی ہیں۔کے ایم سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بل بورڈز کے ٹیکس وصولی کا اختیار کے ایم سی سے ڈی ایم سی کو منتقل ہو چکا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جس ادارے کے پاس خود اختیار نہیں وہ دوسروں کو کیسے اختیار دے سکتا ہے۔جسٹس میاں ثاقب نثارنے کہا متعلقہ ادارے بل بورڈ اور سائن بورڈز کے متعلق ضابطہ اخلاق تحریری طور پر بتائیں ، ہمیں بتایا جائے کہ بل بورڈ نہ ہٹانے پر ہم کس سے پوچھیں ، جب ہم فیصلہ کریں گے اور اس پر عمل ہوگا تو پھر کراچی میں گھومنے کا مزا بھی آئے گا ۔دوران سماعت سپریم کورٹ نے بل بورڈ اور ہوڈنگ کےلےے یونیفارم بائی لازپیش کرنے کا حکم بھی دیا ۔عدالت نے کہاکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل یونیفارم بائی لاز کا ڈرافٹ پیش کریں۔ سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ اداروں کو حکم دیا کہ 15 روز میں پبلک مقامات ، فلائی اوورز ، گلیوں ، گرین بیلٹس اور فٹ پاتھوں سے تمام بل بورڈ ہٹا دئیے جائیں ، بل بورڈ اور سائن بورڈز لگانے کا نہ تو نیا معاہدہ ہوگا اور نہ پرانے کی تجدید ہوگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…