ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سانحہ لاہور، تحقیقات سامنے آ گئیں

datetime 4  اپریل‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک) سانحہ گلشن اقبال ناقص سیکورٹی انتظامات کے باعث ہوا ،دہشتگرد نے مرکزی راستے کی بجائے پارک کے مختلف ٹوٹے ہوئے راستوں کو استعمال کیا اوربغیرکسی رکاوٹ کے اپنا کام دکھا گیا جس کے نتیجے میں74ہلاکتیں اور300افراد بچے خواتین اورمرد زخمی ہوئے ،خاکے، اورمبینہ دہشت گردجیسی اطلاعات سب غلط ثابت ہوئیں، سانحہ کے بعد پولیس ، ضلعی حکومت اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں نے اپنے اپنے طور پر رپورٹ بنانا شروع کر دی۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پارک کے 2 گیٹ ایک اور 5 عوام کیلیے کھلے رہتے ہیں جبکہ مرکزی دروازہ بند ہوتا ہے اورسائیڈ کے 2 چھوٹے دروازے کھلے رہتے ہیں ،یہاں پولیس اورسیکیورٹی گارڈ بھی موجود ہوتے ہیں، وقوع کے روز یہاں اس قدر زیادہ رش تھا کے ان راستوں کو استعمال کرنے کیلیے دس سے پندرہ منٹ گیٹ کراس کرنے میں لگ سکتے تھے،اس دوران دھکم پیل لازمی ہے ،کوئی خود کش حملہ آور یہ رسک نہیں لے سکتا کیونکہ دھکم پیل میں خودکش جیکٹ کا سرکٹ بریک ہوسکتا ہے۔
ان دودروازوں کے علاوہ باسک بال، مسجد والی سائیڈ، دوبئی چوک سے آنے والی پارک کی دیوار، ورکشاپ والی سائیڈ کے جنگلے، دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جہاں سے جو چاہیے آرام کے ساتھ پارک کے اندر داخل ہوسکتا ہے، آج تک کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی، وقوع کے بعد پولیس نے 4 مشکوک افراد کو دیکھا 3 فرار ہوگے ایک نے خود کواڑا لیا اتنے رش میں تین افراد کا یہاں سے فرار ہونا سوالیہ نشان ہے جبکہ جس دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑایا اس کو کس نے دیکھا ابتک پتہ نہیں چلا جس سے دہشت گرد کا خاکہ بھی مشکوک ہوگیا، محمد یوسف نامی شخص کو ممکنہ دہشت گرد ظاہر کیا گیا حالانکہ اس واقع میں اس کی صرف ٹانگیں ضائع ہوئیں اگر اس نے جیکٹ یا بریف کیس پکڑا ہوتا تو نہ پیٹ رہتا نہ ہاتھ کی انگلیاں، اسی طرح ایک کلعدم تنظیم جس نے خودکش دھماکا کرنے والے کا نام صلاح الدین ظاہر کیا ہے۔
پاکستان بھر میں کسی جگہ یاذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی لہٰذا حساس اداروں نے بھی مختلف طریقے سے تحقیقات شروع کردی ہیں ، حساس اداروں نے فوری طور پر پارکس میں خواتین اوربچوں والی سائیڈز کے اردگردچاردیواری یا جنگلے تعمیر کرنے کاکہا ہے جس کو پی ایچ اے نے پارکوں کی خوبصورتی متاثر ہونے کے پیش نظر مسترد قراردیدیا ہے جبکہ کلوز سرکٹ کیمرے، واک تھروگیٹ، جنگلوں کے اوپر خاردھار تاریں لگانے سمیت دیگر انتظامات کیے جارہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…