بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

عوام کے سےاسی شعور کی وجہ سے ملک میں ڈکٹیٹرشپ اپنی جڑیں نہیں پیدا کر سکی، آصف زرداری

datetime 3  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی قائدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے 37ویں یوم شہادت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قائدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو یہ شعور دیا کہ عوام ہی سیاسی طاقت کا سرچشمہ ہیں اور اسی شعور کی وجہ سے ملک میں ڈکٹیٹرشپ اپنی جڑیں نہیں پیدا کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ ان مشکل حالات میںجبکہ طاقت عوام کی بجائے غیرمنتخب عناصر کی جانب منتقل ہو رہی ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو کا فلسفہ اپنانے کی کی جتنی ضرورت اب ہے اتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔ انہوں نے شہید ذوالفقار بھٹو کے7 3ویں یوم شہادت کے موقع پر ملک کے تمام جمہوریت پسند لوگوں سے کہا کہ وہ خود کو ایک مرتبہ پھر اس مقصد کے لئے وقف کر دیں کہ طاقت بیلٹ باکس کے ذریعے آتی ہے نہ کہ گولی کے ذریعے۔ سابق صدر زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو جگایا اور انہیں امید کی طاقت دی اور یہ طاقت بھی دی کہ وہ طاقت کی امید رکھیں۔ انہوں نے آنے والی نسلوں کے لئے راستے کو روشن کیا اور کوئی بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے کارناموں کو ختم نہیں کر سکتا۔ یہ حقیقت ہے کہ شہید ذوالفقار بھٹو مینارائے روشنی ہیں اور عوام کے لئے مینارائے امید بھی ہیں۔ آصف علی زرداری نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قائدعوام ہی تھے جنہوں نے قوم کو ایک متفقہ جمہوری آئین دیا اور ملک کے ددفاع کو مضبوط کیا۔ یہ دونوں باتیں جو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے آنے والی نسلوں کے لئے چھوڑی ہیں ان کی حفاظت ہر صورت میں ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے روز ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ خود کو جمہوری اصولوں کے لئے وقف کر دیں گے اور ہم ان تمام لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوںنے جمہوریت کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کیں اور پابندِ سلاسل ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…