بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

اورنج ٹرین اور کول پاور پراجیکٹس کےخلاف درخواستوں کی سماعت کرنےوالے لارجر بنچ کے دو اراکین کی کیس کی سماعت سے معذرت

datetime 21  مارچ‬‮  2016 |

لاہور (نیوز ڈیسک) اورنج لائن میٹرو ٹرین اور کول پاور پراجیکٹس کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے لارجر بنچ کے دو اراکین نے کیس کی سماعت سے معذرت کر لی جس کے بعد نو تشکیل شدہ لارجر بنچ کیس کی سماعت کے آغاز میں ہی تحلیل ہو گیا۔لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اعجازالاحسن نے اورنج ٹرین اور کول پاور پراجیکٹس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لئے جسٹس محمد خالد محمود خان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ تشکیل دے رکھا تھا جس کے دیگر اراکین میں جسٹس شاہد بلال حسن،جسٹس عابد عزیز شیخ،جسٹس شاہد کریم اور جسٹس علی اکبر قریشی شامل تھے۔عدالتی کاروائی کا آغاز ہوتے پر جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس شاہد کریم نے ذاتی وجوہات کی بناپر کیس کی سماعت سے معذرت کر لی جس کی بناپر نو تشکیل شدہ لارجر بنچ کیس کی سماعت کے آغاز میں ہی تحلیل ہو گیا۔بنچ کے سربراہ جسٹس محمود خالد محمود خان نے کیس مزید سماعت کے لئے چیف جسٹس کو واپس بھجوا دیا۔اٹارنی جنرل سلمان بٹ نے جسٹس خالد محمود خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کے روبرو کول پاور پراجیکٹس کیخلاف درخواست کی سماعت کے دوران استدعا کی تھی کہ اورنج ٹرین سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کیخلاف درخواستوں کو یکجا کر لارجر بنچ کے روبرو سماعت کیلئے پیش کیا جائے۔ دوسری جانب سول سوسائٹی نے متفرق درخواست دائر کرتے ہوئے اورنج ٹرین منصوبے کیخلاف درخواستوں کو لارجر بنچ سے الگ کرنے کی استدعا کر رکھی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…