اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

وزارت داخلہ نے 11 ہزار افراد کے نام ای سی ایل سے خارج کردیئے

datetime 10  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزارت داخلہ نے 11 ہزار افراد کے نام ای سی ایل سے خارج کردیئے۔ ای سی ایل میں14ہزار افراد کے نام شامل تھے۔ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر متعلقہ اداروں کے تعاون سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر نظر ثانی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور 11 ہزار افراد کے نام خارج کر دیئے گئے ہیں۔ اب ای سی ایل میں صرف 3 ہزار افراد کے نام شامل ہیں اور ان میں سے زیادہ تر نام اعلیٰ عدالتوں کے حکم پر شامل کئے گئے تھے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں 19 غیرملکی این جی اوز کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ مذکورہ غیرملکی این جی اوز کی دستاویزات کی تصدیق خصوصی آئی این جی اور کمیٹی نے کی تھی۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ‘ نیشنل کوآرڈی نیٹر نیکٹا اور وزارت داخلہ کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔جنگ رپورٹر طاہر خلیل کے مطابق اجلاس میں یورپی یونین اور حکومت پاکستان کے درمیان ڈی پورٹیز (جبری بے دخل) پاکستانی تارکین وطن پر سمجھوتے کا خیر مقدم کیا گیا۔ وزیرداخلہ نے اس ضمن میں وزارت داخلہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ حکومت پاکستان نے یورپی یونین کے ملکوں میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کی بلا تحقیق پاکستان بھیجنے کے خلاف آواز بلند کی اور معاہدہ بھی عارضی طور پر معطل کیا۔ یورپی یونین نے اب ڈی پورٹیز کے معاملے پر سمجھوتے میں کمزوریاں دور کی ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ برسلز میٹنگ میں پاکستان اور یورپی یونین کے مابین ڈی پورٹیز کے سلسلے میں معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے ہیں اور پاکستان کے تحفظات کا ازالہ کیا گیا ہے اور وزارت داخلہ اس حوالے سے نئے ایس او پی بنائے جائیں گے۔ جس سے غیر قانونی تارکین وطن کی آمدورفت اور انسانی سمگلنگ کے ازالے میں بھی مدد ملے گی۔ وزیر داخلہ نے ای سی ایل سے 11 ہزار افراد کے نام خارج کرنے کو وزار ت داخلہ کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ نئے ایس او پی بننے کے بعد ای سی ایل کا غلط استعمال ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئی اور شفاف پالیسی کے تحت پسند و ناپسند یا کسی کی صوابدید پر ای سی ایل میں نام شامل نہیں کیا جاسکے گا۔ اجلاس میں پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیز کے لئے نئے ایس او پیز کا جائزہ لیا گیا۔ وزیرداخلہ نے قواعد و ضوابط پورے نہ کرنے پر اسلام آباد کی 196 نجی سکیورٹی کمپنیوں کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔ ان کمپنیوں کو دفاتر‘ ملازمین کی تربیت اور دیگر معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ ایک ہفتے میں ضروری معلومات اور قواعد و ضوابط مکمل نہ کرنے والی نجی سکیورٹی کمپنیز کے لائسنس معطل کر دیئے جائیں گے جبکہ سکیورٹی کمپنیوں کی جائز مشکلات کا ازالہ کریںگے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کمپنیوں کیلئے ناگزیر ہے کہ اپنے گارڈز کو مطلوبہ ہتھیار اور تربیت فراہم کریں اور اپنے گارڈز اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…