اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

پشاور میں ایک ایسا شخص بھی ہے جو چپ چاپ بغیر کسی معاوضے کے آپکو طاعون سے بچا رہا ہے۔ مگر کیسے؟

datetime 5  جنوری‬‮  2015 |

پشاور: خیبر پختون خوا کے ایک شہری نے  طاعون جیسے مرض کا خاتمہ کرنے کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت مہم شروع کر رکھی ہے۔

صوبہ خیبر پختون خوا کو عام طور پر دنیا بھر میں دہشت گردی اور بم دھماکوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے لیکن اس صوبے کا ایک شہری ایسا بھی ہے جس نے ان تمام تر حالات کے باوجود طاعون جیسے موذی مرض کے خلاف مہم  شروع کر رکھی ہے۔ پشاور کے علاقے زریاب کے رہائشی  نصیر احمد کا کہنا تھا کہ چوہے مرغیوں اور دیگر پرندوں کو ہلاک کرنے کے ساتھ  معاشرے میں بیماریاں پھیلانے کا بھی باعث بنتے ہیں اوران کا خاتمہ اس کا مشن ہے جب کہ  یہ فیصلہ اس وقت کیا جب میرے ایک دوست نے بتایا کہ چوہے کے کاٹنے کے باعث اس کی بیوی اسپتال میں داخل ہے جس کے علاج پر ہزاروں روپے خرچ ہوگئے۔

نصیر احمد کا کہنا ہے کہ شہر میں پائے جانے والے زیادہ تر چوہوں کی لمبائی 22 سے 30 سینٹی میٹر تک ہے جو گلیوں، مارکیٹوں، دکانوں اور گھروں میں پائے جاتے ہیں حالانکہ میرے پاس اس مشن کو پورا کرنے کے لئے سہولیات کم ہیں لیکن میں اسے جاری رکھے ہوئے ہوں۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ رات کو چوہا مار مہم پر نکلتا ہے  اس دوران گلیوں ، گھروں اور دکانوں پر  ڈبل روٹی کے ٹکڑے رکھ دیتا ہے جس پر چوہا مار دوا لگا ہوتی ہے، چوہوں پر عام زہر اثر نہیں کرتا اس لئے میں نے انہیں مارنے کے لئے اپنا فارمولا تیار کیا ہے۔

چوہا مار مہم میں نصیر احمد کا ساتھ دینے والے گل زادہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس چوہے کے کاٹنے کے باعث اس کے بھتیجے کی موت واقع ہو گئی تھی جب کہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ چوہوں کے خلاف ہر کسی نے اپنی جانب سے انتظامات کر رکھے ہیں لیکن نصیر احمد ایک ماہر کی طرح چوہوں پر حملہ کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…