اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکی کمپنی نے بیئر کے کین پر گاندھی کی تصویر کیوں شائع کی ،پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 5  جنوری‬‮  2015 |

حیدرآباد۔۔۔۔ ایک امریکی کمپنی نے اپنی بیئر کے کین اور بوتلوں پر بھارت کے ’بابائے قوم‘ مہاتما گاندھی کی تصویر شائع کی ہے جس پر تنازعے کے بعد کمپنی نے معافی مانگ لی ہے۔کمپنی نے حیدرآباد کی ایک عدالت میں اس کے خلاف دائر کی جانے والی ایک درخواست کے بعد معافی مانگی ہے۔عدالت میں داخل کی جانے والی درخواست میں کمپنی پر مہاتما گاندھی کی ’توہین‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔تاہم کنیکٹیکٹ میں واقع نیو انگلینڈ بروئنگ نامی اس کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس کے ذریعے مہاتما گاندھی کے ساتھ عقیدت اور احترام کے جذبے کا اظہار کرنا چاہتے تھے نہ کہ ان کی توہین۔کمپنی کا کہنا ہے کہ موہن داس کرمچند گاندھی کی تصویر کی اشاعت کے لیے اس نے مہاتما گاندھی کے پڑ پوتے اور پڑپوتیوں سے بات بھی کی تھی، جنھوں نے کین اور بوتل پر لیبل کی تعریف کی تھی۔عرضی داخل کرنے والے کا کہنا ہے کہ بیئر کے کین پر گاندھی کی تصویر اور ان کی تفصیل، بھارتی قوانین کے تحت قابل سزا جرم ہے
اس بیئر برانڈ کا نام ’گاندھی باٹ‘ ہے۔ نیو انگلینڈ کمپنی کے مطابق گاندھی باٹ میں امریکی ہوپس کی تین اقسام کی بیئر کا مرکب ہے۔حیدرآباد کے وکیل سنہارہ جناردن نے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ، سائبرآباد کے سامنے داخل کی جانے والی درخواست میں کہا تھا کہ بیئر کے کین پر گاندھی کی تصویر اور ان کی تفصیل، بھارتی قوانین کے تحت قابل سزا جرم ہے۔پٹیشن کے مطابق یہ جرم ’پرکنونشن آف انسلٹس ٹو نیشنل آنر ایکٹ، 1971‘ اور تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی ’دفعہ 124۔اے‘ (اشتعال انگیز الفاظ، پیغام یا تصویر کا استعمال) کے تحت آتا ہے۔دوسری جانب کمپنی کے معاونن میٹ ویسٹ فال کا کہنا ہے: ’ہمارا مقصد کسی کے جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا لیکن اگر اس سے بھارتی باشندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو اس کے لیے ہم معافی چاہتے ہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…