بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے، امریکہ کی ریاست کنیٹکی میں پیش آیا ایک انوکھا واقعہ

datetime 4  جنوری‬‮  2015 |

ایڈے ولی: مثل مشہور ہے کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے، ایسا ہی کچھ امریکی ریاست کنیٹکی میں اس وقت ہوا جب ایک طیارے کو حادثہ پیش آیا جس میں ماں باپ سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہو گئے لیکن سات سالہ بچی معجزاتی طور پر بچ گئی۔

ریاست کنیٹکی کے پولیس سارجنٹ ڈین پیٹرسن نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فیڈرل ایوی ایشن کے حکام جائے ووقوعہ پر پہنچے تاکہ چھوٹے پائپر طیارے پی اے 34 کے حادثے کی وجوہات سکیں۔

طیارہ کو جمعہ کی شام جس وقت حادثہ پیش آیا وہ جنوب مغربی کنیٹکی کے دیہی علاقے میں پرواز کر رہا تھا۔

حکام کے مطابق طیارے کے انجن میں کسی قسم کا مسئلہ تھا اور تباہ ہونے سے کچھ دیر قبل پانچ بج کر 55 منٹ پر اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

لگ بھگ آدے گھنٹے کے بعد اس علاقے کے رہائشی نے ایمرجنسی سروس پر کال کر کے بتایا کہ ابھی ایک سات سالہ بچی ان کے بھر میں آئی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ حادثے کا شکار طیارے میں سوار تھی۔

لڑکی کو فوری طور پر علاج معالجے کے لیے کنیٹکی کے لورڈیس ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے اسے ہفتے فارغ کردیا گیا۔

پیٹنسن نے بتایا کہ یہ لڑکی طایارے کے ملبے سے خود باہر آئی اور اس نے قریبی رہائش گاہ ڈھونڈ کر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی اطلاع فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ اس لڑکی کا بچنا ایک طرح سے معجزہ ہے لیکن طیاقے میں سوار بقیہ چاروں افراد کی ہلاکت المناک ہے۔

حادثے میں ہلاک ہونے والے دیگر افراد کی شناخت ہو گئی ہے جن میں لڑکی کے والد، والدہ، بہن اور کزن شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…