بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

نیوی کے تعاقب پر پراسرار ’پاکستانی‘ کشتی تباہ: ہندوستان کا دعویٰ

datetime 2  جنوری‬‮  2015 |

نئی دہلی: ہندوستان کے مطابق بحیرہ عرب میں پاکستانی ماہی گیروں کی ایک کشتی نے ہندوستانی نیوی کی جانب سے پکڑے جانے کے خطرے کے پیش نظر خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑالیا۔

ہندوستانی وزارت دفاع کے مطابق 31 دسمبر اور یکم جنوری کی درمیان شب پیش آنے والے واقعے میں پاکستانی کشتی میں موجود تمام چار افراد ہلاک ہوگئے۔

ہندوستانی وزارت دفاع کا صرف یہ کہنا تھا کہ انہیں شبہ ہے کہ یہ کشتی کسی ’مشکوک سرگرمی‘ میں ملوث تھی تاہم انڈین میڈیا معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے۔

ہندوستانی میڈیا اس واقعے کو ممبی حملے سے جوڑنے کی کوشش کررہا ہے۔

اس سے قبل 2008 میں ممبئی حملوں کے دوران عسکریت پسند ہندوستان کے شہر ممبئی میں سمندر کے ذریعے ہی داخل ہوئے تھا جس کے دوران 166 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور یہ حملہ 60 گھنٹوں تک جاری رہا تھا۔

ممبئی حملے کے دوران بچ جانے والے واحد حملہ آور اجمل قصاب کو ہندوستان نے نومبر 2012 میں پھانسی دی تھی۔

ان دنوں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ممبئی حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ زکی الرحمان لکھوی کی ضمانت پر رہائی کو لیکر تعلقات کشیدہ ہیں تاہم انہیں اب دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔

واقعے کی تفصیلات

ہندوستانی وزارت دفاع کے اعلامیے کے مطابق انڈین کوسٹ گارڈز کے ایئر کرافٹس اور جہازوں نے گجرات کے ساحل سے تقریباً 365 کلو میٹر دور اس کشتی کا راستہ روکنے کی کوشش کی تاہم اس نے اپنی رفتار بڑھادی جس پر ہندوستانی فورسز نے اس کا تعاقب کیا جو کہ ایک گھنٹے تک جاری رہا۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ ہندوستانی فورسز کی جانب سے وارننگ شاٹس کے بعد کشتی رک گئی اور کشتی میں موجود چاروں افراد نے خود کو کشتی کے ڈیک کے نیچے چھپالیا جس کے بعد دھماکا ہوگیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اندھیرے، خراب موسم اور تیز ہواؤں کے باعث کشتی میں موجود افراد کو بچایا نہیں جاسکا اور کشتی اسی مقام پر ڈوب گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…