اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

کراچی آپریشن کو مزید تیز کیا جائے، وزیرداخلہ، ڈی جی رینجرز کو ہدایت

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آبا(نیوزڈیسک))رینجرزکو اہم ہدایات ملنے کے بعد جرائم پیشہ افراد میں کھلبلی مچ گئی ۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے پیر کو ڈی جی رینجرز سندھ میجرجنرل بلال اکبر نے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں حالیہ بلدیاتی انتخابات کے دوران سندھ میں امن و عامہ کی صورتحال اور کراچی آپریشن پر بریف کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کراچی آپریشن سے امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ اسے مزید تیزی سے آگے بڑھایا جائے اور حالیہ بلدیاتی انتخابات کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر رینجرز پولیس کے ساتھ مل کر اندرون سندھ میں بھی حالات کو معمول پر لانے کیلئے اقدامات کرے۔ بعد ازاں اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی پورٹ افراد کے حوالے سے چوہدری نثار نے واضح کیا کہ پاکستان کو دنیا بھر کے جرائم پیشہ افراد کا ڈمپنگ گرائونڈ نہیں بننے دیں گے۔ وزارت داخلہ کے این او سی کے بغیر پاکستان ڈی پورٹ باشندوں کو قبول نہیں کریگا۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ڈی پورٹ افراد کی واپسی کےلئے نئے ضابطے بنانے کی ہدایت کردی۔ وزارت داخلہ میں نیشنل کرائس مینجمنٹ سیل ختم کرکے اسے نیکٹا میں ضم کرنے کا فیصلہ کیاگیا کچی آبادیوں کے قیام میں سہولت کار بننے والے سی ڈی اے افسروں کی نشاندہی کا کام مکمل کرلیا گیا،اجلاس میں ڈی پورٹ کئے گئے پاکستانیوں کی وطن واپسی، نیشنل ایکشن پلان پر پیش رفت، آئی این جی اوز کی رجسٹریشن، ای سی ایل سے ناموں کا اخراج، اسلحہ لائسنسز کی تجدید ، سیف سٹی پراجیکٹ، ملاوٹ کے خلاف جاری مہم، سیکورٹی سروے، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال اور دیگر اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ وزیرِداخلہ نے وزارت داخلہ اور خارجہ کو ہدایت کی کہ کسی بھی ڈی پورٹ کئے گئے شخص کی شہریت کا حتمی تعین اوراسکے ڈی پورٹ ہونے کی وجوہات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کئے بغیر اس کو واپس قبول نہ کیا جائے، ایس او پی ترتیب دینے ، وزراتِ خارجہ اور پاکستانی سفارتخانوں سے رابطہ کار کیلئے وزارتِ داخلہ میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی جائے گی اوراس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ بیرونِ ملک سفارتخانوں سے کسی بھی ملک بدر کئے گئے شخص کو عارضی سفری دستاویزات کے اجراء سے پہلے وزارتِ داخلہ سے اس کے کوائف کی تصدیق ضروری ہوگی۔ ڈی پو رٹیز کے سلسلے میں آئندہ ایک ہفتے میں واضح پالیسی پیپر تیار کرکے تمام سفارتخانوں کو بھجوایا جائے،،وزیرِداخلہ نے وزارتِ داخلہ میں عہدوں اور ذمہ داریوں کی تنظیم نو کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیرِداخلہ کی کوششوں سے علماء اور حکومت میں مدارس رجسٹریشن فارم پر اتفاقِ رائے طے پا گیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ آئندہ کوئی نام بغیر کسی ٹھوس وجہ کے ای سی ایل میں نہیں ڈالا جا سکے گا۔ وزیرِ داخلہ نے اسلام آباد انتظامیہ کو ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری اشیا کی خرید و فروخت میں ملوث عناصر کیخلاف مہم بلا تفریق و امتیاز جاری رکھنےاور سکیورٹی سروے 31دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی،جبکہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے 10 دسمبر2015 سے سیف سٹی پراجیکٹ کام شروع کر دیگا۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے حتمی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت شہر بھر میں1500 کیمرے نصب کر دیئے گئے ہیں۔ مزید ساڑھے چار سو کیمرے15 نومبر تک نصب کر دیئے جائیں گے۔بعد ازاں وزیر داخلہ سیف سٹی منصوبے کے بارے میں بریفنگ کے سلسلے میں کیپیٹل کمانڈ سنٹر گئے جہاں انہیں بتایا گیا کہ چینی کمپنی1500 کیمرے نصب کرچکی ہے دو سو کیمرے فعال ہوچکے ہیں کیپیٹل کمانڈ سنٹر میں 72 کیمروں کی ایک سکرین آویزاں کی گئی ہے جس پر تصویر کو بڑا چھوٹا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ 89 پولیس افسر اس منصوبے میں تربیت حاصل کرنے کے بعد کام کررہے ہیں۔ وزیرداخلہ نے منصوبے کے منیجر کو خبردار کیا کہ ڈیڈلائن کے مطابق کام شروع نہ ہوا تو انہیں ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑیں گے، جنہوں نے چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا10 دسمبر تک منصوبہ عملی شکل میں پیش کردیا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اس ملک کا ایک ایک پیسہ قوم کی امانت ہے سیف سٹی منصوبے کو شہریوں کے محافظ منصوبے کے طور پر دیکھنے کے خواہاں ہیں منصوبے کی عملی افادیت کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں کو بھی محفوظ بنانے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…