بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

پٹرول پمپ کے قریب رہنے والے بچوں میں کینسر کا خطرہ: تحقیق میں انکشاف

datetime 2  مئی‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)مونٹریال یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ پیٹرول پمپ کے قریب رہائش پذیر بچوں میں کینسر،

بالخصوص خون کے کینسر کا خطرہ دیگر بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر اسٹیفن بیوٹو کے مطابق، بچوں میں کینسر کی صرف 5 سے 10 فیصد وجوہات جینیٹکس ہوتی ہیں، جبکہ باقی ماندہ خطرات ماحولیاتی عوامل، خاص طور پر فضائی آلودگی سے وابستہ ہوتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرول میں بینزین نامی ایک انتہائی خطرناک اور کینسر پیدا کرنے والا کیمیکل پایا جاتا ہے۔ یہ کیمیکل پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی، گاڑیوں میں ایندھن بھرنے اور ٹینکرز سے پیٹرول نکالنے کے دوران بخارات بن کر فضا میں شامل ہو جاتا ہے۔کینیڈا کے محکمہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق، پیٹرول پمپ سے خارج ہونے والے یہ بخارات قریبی رہائشیوں، بالخصوص حاملہ خواتین اور بچوں کی صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔محققین نے ڈیٹا کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بچے جن کی پیدائش کے وقت ان کے گھر پیٹرول پمپ سے 250 میٹر کے فاصلے کے اندر تھے، ان میں خون کے کینسر کا خطرہ واضح طور پر زیادہ دیکھا گیا۔یہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب گھر کا فاصلہ 100 میٹر یا اس سے بھی کم ہو۔پٹرول پمپس سے نکلنے والی گیسیں اور بخارات ہوا میں شامل ہو کر انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ بخارات خاص طور پر اس وقت خارج ہوتے ہیں جب پمپ کے ٹینک بھرے جا رہے ہوں یا گاڑیوں میں پٹرول ڈالا جا رہا ہو۔اگرچہ یہ تحقیق کینیڈا میں کی گئی، لیکن اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے اہم ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کینیڈا کے شہر مونٹریال میں یہ خطرہ دوسرے علاقوں کے مقابلے میں کم دیکھا گیا، جس کی وجہ وہاں کے سخت قوانین ہیں۔ وہاں ایسے جدید نظام ویپر ریکوری سسٹم استعمال کیے جاتے ہیں جو زہریلے بخارات کو ہوا میں پھیلنے سے روکتے ہیں۔اسٹڈی میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حمل کے دوران اور پیدائش کے فورا بعد کا وقت انسانی صحت کے لیے سب سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔ اس دورانیے میں زہریلے ماحولیاتی اثرات بچوں کے جسمانی خلیات پر بہت گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ماہرین نے تجویز دی ہے کہ انسانی صحت کے تحفظ کے لیے رہائشی علاقوں، اسکولوں اور ڈے کیئر سینٹرز کو پٹرول پمپوں سے ایک مناسب فاصلے پر تعمیر کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ پٹرول پمپس پر گیسوں کے اخراج کو روکنے والے آلات کی تنصیب لازمی قرار دی جانی چاہیے، تاکہ بچوں کو ان جان لیوا ماحولیاتی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔محققین اب اپنی اگلی تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ صنعتی دھوئیں اور ہوا میں موجود باریک گرد و غبار بچوں کی صحت پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ معمولی احتیاطی تدابیر اپنا کر بچوں کو خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…