بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

کم لاگت گھروں کی تعمیر کیلئے ہاؤسنگ لون کی حد ایک کروڑ روپے مقرر

datetime 25  مارچ‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی)کم لاگت گھروں کی تعمیر کیلئے حکومت کی رعایتی اسکیم پر عملدرآمد شروع ہوگیا۔

ہاؤسنگ لون کی حد 35 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کردی گئی۔ 10 مرلے کے گھر کیلئے بھی اب پانچ فیصد فکسڈ سود پر قرض ملے گا۔ حکومت سستے گھروں کیلئے پہلے سال 322 ارب روپے کی سبسڈی دے گی جس میں 282 ارب روپے مارک اپ سبسڈی،40 ارب کی رسک شیئرنگ کاسٹ شامل ہے۔دستاویز کے مطابق ہاسنگ اسکیم کے تحت 4 سال میں 5 لاکھ گھر تعمیر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سستے گھروں کیلئے قرض پر سود 8 فیصد کے بجائے فکسڈ 5 فیصد مقرر کردیا گیا۔ پہلے سے 8 فیصد پر قرض لینے والوں کو بھی 5 فیصد فکسڈ سود دینا ہوگا۔اسکیم کے تحت گھر کا سائز 5 مرلہ سے بڑھا کر 10 مرلہ کردیا گیا، اسکیم کے تحت گھر کا زیادہ سے زیادہ سائز 2720 مربع فٹ ہوگا، فلیٹ یا اپارٹمنٹ کا سائز 1360 سے بڑھا کر 1500 مربع فٹ مقرر کردیا گیا۔پہلے سال جون 2026 تک 50 ہزار گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، دوسرے مرحلے میں جون 2027 تک ایک لاکھ گھر تعمیر ہوں گے، تیسرے سال جون 2028 تک مزید ایک لاکھ 50 ہزار گھروں کا ہدف ہے۔ چوتھے سال جون 2029 تک مزید 2 لاکھ ہاوسنگ یونٹ تعمیر ہونگے۔

اس اسکیم کی سب سے بڑی کشش اس کا نہایت کم مارک اپ ریٹ ہے۔ حکومت نے اب تمام اقسام کے گھروں اور فلیٹس کے لیے مارک اپ کی شرح کو صرف پانچ فیصد پر مقرر کر دیا ہے۔ اس سے پہلے بعض درجات کے لیے یہ شرح آٹھ فیصد تھی لیکن اب اسے بھی کم کر کے پانچ فیصد پر ایڈجسٹ کر دیا گیا ہے۔قرض کی واپسی کے لیے 20 سال تک کا طویل عرصہ دیا گیا ہے جس سے ماہانہ قسط کا بوجھ بہت کم ہو جاتا ہے۔ حکومت پہلے دس سال تک مارک اپ کی سبسڈی خود برداشت کرے گی تاکہ ابتدائی سالوں میں شہری آسانی سے اپنے گھر کی تعمیر مکمل کر کے قسطیں ادا کر سکیں۔ بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ 90 فیصد تک فنانسنگ فراہم کریں جبکہ شہری کو صرف دس فیصد رقم خود لگانی ہوگی۔اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے کچھ بنیادی شرائط مقرر کی گئی ہیں تاکہ حقدار افراد ہی اس سے مستفید ہوں۔ صرف وہ پاکستانی شہری اس کے اہل ہوں گے جن کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ موجود ہو۔

درخواست گزار کے نام پر پاکستان میں پہلے سے کوئی رہائشی جائیداد نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اسکیم خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو زندگی میں پہلی بار اپنا گھر خریدنے یا تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔درخواست گزار اپنے پاس موجود پلاٹ پر گھر کی تعمیر، بنا بنایا گھر یا فلیٹ خریدنے، یا نیا پلاٹ خرید کر اس پر تعمیر کرنے کے لیے بھی قرض کی درخواست دے سکتا ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…