اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)رمضان المبارک اب اپنے اختتامی مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان جہاں اس بابرکت مہینے کو رخصت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں،
وہیں عیدالفطر کی آمد کے منتظر بھی ہیں۔ اسی تناظر میں بین الاقوامی فلکیاتی مرکز نے شوال کے چاند کے حوالے سے تازہ فلکیاتی اندازے جاری کیے ہیں۔ماہرینِ فلکیات کے مطابق مختلف ممالک میں عیدالفطر کی تاریخ اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہاں رمضان المبارک کا آغاز کس دن ہوا تھا۔ جن ممالک میں پہلا روزہ بدھ 18 فروری کو رکھا گیا تھا، وہاں شوال کا چاند 18 مارچ کو تلاش کیا جائے گا۔ جبکہ وہ ممالک جہاں رمضان کا آغاز جمعرات 19 فروری کو ہوا تھا، وہاں 19 مارچ کو چاند دیکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
فلکیاتی مرکز نے اپنے سوشل میڈیا پیج پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جن علاقوں میں 18 مارچ کو چاند کی رویت کی کوشش کی جائے گی وہاں اس دن چاند نظر آنے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ چاند سورج سے پہلے غروب ہو جائے گا اور چاند اور سورج کا فلکیاتی اتصال بھی غروبِ آفتاب کے بعد ہوگا۔ اس صورت میں ان ممالک میں رمضان کے تیس روزے مکمل ہونے کا امکان ہے اور عیدالفطر جمعہ 20 مارچ کو منائے جانے کی توقع ہے۔
دوسری جانب جن ممالک میں 19 مارچ کو چاند دیکھا جائے گا، وہاں دنیا کے مشرقی حصوں میں چاند کی رویت مشکل بتائی جا رہی ہے۔ تاہم مغربی ایشیا، وسطی اور شمالی افریقہ کے بعض علاقوں میں دوربین کے ذریعے چاند نظر آنے کا امکان موجود ہے۔
مزید یہ کہ مغربی یورپ اور مغربی افریقہ میں عام آنکھ سے چاند دیکھنا خاصا دشوار ہوگا، جبکہ شمالی امریکا کے بیشتر علاقوں میں چاند کی رویت نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔ ان امکانات کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ متعدد ممالک میں عیدالفطر 20 مارچ کو منائی جا سکتی ہے۔
فلکیاتی مرکز کے مطابق دنیا کے کئی مشرقی اور وسطی خطوں میں 19 مارچ کو چاند دیکھنا انتہائی مشکل ہوگا، اس لیے ممکن ہے کہ کچھ ممالک اس روز چاند نظر نہ آنے کا اعلان کریں۔ ایسی صورت میں ان ممالک میں عیدالفطر ہفتہ 21 مارچ کو منائے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔



















































