بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

اقوامِ متحدہ میں اسرائیل سے فلسطینی علاقے خالی کرانے کی قرارداد مسترد

datetime 31  دسمبر‬‮  2014 |

نیو یارک۔۔۔۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل سے تین برس میں فلسطینی علاقے خالی کرنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد مسترد کر دی ہے۔15 رکنی سلامتی کونسل میں یہ قرارداد اردن کی جانب سے پیش کی گئی اور اس سے قبل اس پر 22 عرب ممالک اور فلسطینی انتظامیہ نے منظور کیا تھا۔اسرائیل اور فلسطین کا تنازع کیا ہے۔منگل کو پیش کی جانے والی قرارداد کو منظوری کے لیے نو ووٹ درکار تھے مگر اس کی حمایت میں آٹھ ووٹ ہی پڑ سکے۔قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک میں فرانس، چین، روس، ارجنٹائن، چاڈ، چلی، اردن اور لگزمبرگ شامل تھے۔امریکہ اور آسٹریلیا نے اس قرارداد کی مخالفت کی جبکہ پانچ ممالک برطانیہ، لیتھوینیا، نائجیریا، جمہوریہ کوریا اور روانڈا نے ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا۔قرارداد میں مشرقی یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالخلافہ قرار دیا گیا تھا۔اگر یہ قرارداد منظوری کے لیے درکار نو ووٹ حاصل کر بھی لیتی تب بھی امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے اس کی منظوری ناممکن تھی۔امریکہ کو سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے ویٹو کی طاقت حاصل ہے اور صرف اس کی مخالفت پر بھی سلامتی کونسل اس قرارداد کو منظور نہیں کر سکتی تھی۔اسرائیل کے قریبی حلیف ہے امریکہ نے قرارداد پر رائے شماری سے قبل ہی کہا تھا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ چاہتا ہے لیکن وہ کسی لاگو شدہ نظام اولاقات کا حامی نہیں۔ادھر اسرائیل نے اس قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’شعبدہ‘ قرار دیا ہے۔اس قرارداد میں اسرائیل سے حتمی امن منصوبے پر بات چیت کے لیے ایک سال کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی اور اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ وہ 2017 کے اختتام پر مقبوضہ فلسطینی علاقے خالی کر دے۔قرارداد میں نئے مذاکرات ان علاقائی خطوط کی بنیاد پر کرنے کی بات کی گئی تھی جو اسرائیل کے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں غربِ اردن، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی پر قبضے سے قبل موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…