اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ماہرین نے ایک ایسا نیا مواد تیار کیا ہے جو بغیر پنکھے یا ایئر کنڈیشنر کے گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایجاد توانائی کی بچت کے ساتھ ماحول کے لیے بھی محفوظ متبادل فراہم کرے گی۔
یہ تحقیق چین کی Dalian University of Technology اور امریکہ کی Pennsylvania State University کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ اس منصوبے کا مقصد بڑھتی ہوئی گرمی اور توانائی کے بحران کے دوران گھروں کو کم خرچ اور پائیدار طریقے سے ٹھنڈا رکھنے کا حل فراہم کرنا تھا۔یہ منفرد مواد Polymethyl Methacrylate (PMMA) پر مبنی ہے اور “Passive Radiative Cooling” کے اصول پر کام کرتا ہے۔
یعنی یہ دن میں سورج کی گرمی کو روکنے اور رات میں عمارت کی حرارت کو خلا میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تحقیق کے مطابق، اس مٹیریل کے استعمال سے بجلی کے بغیر درجہ حرارت تقریباً 8.4° سینٹی گریڈ (15.1°F) تک کم کیا جا سکتا ہے۔یہ مواد لاگت کے اعتبار سے سستا اور عام ہے، جسے موجودہ عمارتوں میں بھی باآسانی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ایئر کنڈیشنرز کے برعکس، یہ توانائی خرچ نہیں کرتا اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لاتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ حالات میں بجلی کے بغیر ٹھنڈک فراہم کرنے والی ٹیکنالوجیز کی فوری ضرورت ہے۔ اگر یہ مٹیریل وسیع پیمانے پر استعمال ہوا تو توانائی کی کھپت کم ہو سکتی ہے اور عام گھرانوں کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔یاد رہے کہ دنیا بھر میں تقریباً دو ارب افراد ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں گرمی شدید اور ایئر کنڈیشننگ ہر کسی کی پہنچ میں نہیں۔ اسی لیے اس ایجاد کو “مستقبل کی کولنگ ٹیکنالوجی” قرار دیا جا رہا ہے۔