بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

مولانا عبدالعزیز پولیس کے پاس پیش ہو نے کو کیوں تیار ہوئے، کلک کرکے پڑھیں

datetime 29  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے نمائندے پولیس سٹیشن آئے تھے اور انھوں نے یہ یقین دہانی کروائی کہ مولانا عبدالعزیز اس مقدمے میں شاملِ تفتیش ہوں گے اور قانون کے تحت جو بھی وضاحتیں درکار ہوں گی وہ دیں گے۔یہ بات اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز عصمت اللہ جونیجو نے بی بی سی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہی۔’مولانا عبدالعزیز نہ گرفتاری دیں گے اور نہ ہی ضمانت کرائیں گے‘۔ان کا کہنا تھا ’ان کے نمائندوں نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ کہ وہ (مولانا عبدالعزیز) خود پولیس سٹیشن آکر اپنا بیان بھی ریکارڈ کروائیں گے۔‘
عصمت اللہ جونیجو کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی کسی کے خلاف ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو ملزم کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ 14 دن کے اندر متعلقہ تھانے میں پیش ہو کر الزامات کے بارے میں وضاحت پیش کرے۔مولانا عبدالعزیز کی جانب سے گرفتاری نہ دینے کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ جو بیانات ذرائع ابلاغ میں آ رہے ہیں ان کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے۔’بیانات کے برعکس وہ ضمانتی مچلکے حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ اس مقدمے کی تفتیش میں شامل ہو کر اپنی صفائی پیش کرنا چاہتے ہیں۔‘بیانات کے برعکس وہ ضمانتی مچلکے حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ اس مقدمے کی تفتیش میں شامل ہو کر اپنی صفائی پیش کرنا چاہتے ہیں۔عصمت اللہ جونیجو نے بتایا کہ قانون کے تحت کسی بھی ایف آر کی ابتدائی تفتیش کے لیے پولیس کے پاس چودہ دن کی مہلت ہوتی ہے اور پولیس کی کوشش ہوتی ہے کہ جلد از جلد اس کیس کو مکمل کریں۔ایف آئی ار جھوٹی ہونے کے بیان پر ایس ایس پی آپریشن نے کہا’یہ قبل از وقت ہے کیونکہ اس بات کا فیصلہ تفتیش مکمل کرنے اور تمام فریقین کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعدہی کیا جا سکتا ہے۔‘’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ ایک اہم مقدمہ ہے جس کی تفتیش صرف ایس ایچ او نہیں کر رہا بلکہ دیگر افسران بھی اس میں شامل ہیں اور مقدمے کا فیصلہ صرف میرٹ پر ہوگا۔‘
گذشتہ کچھ عرصے میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے جب مولانا عبدالعزیز کے ورانٹ جاری ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت یہ واضح کرنا چاہتی ہے جو بھی فرقہ ورایت اور دہشت گردی کی حمایت کرے گا اْس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
جب ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو سے پوچھا گیا کہ مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کے حوالے سے ان کا موقف تھا کہ ’ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…